کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور شابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر ڈی جی رینجرز کو دوبارہ نوٹس جاری کردیا ہے۔جسٹس سجادعلی شاہ کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ کو ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے خلاف ان کی اہلیہ زرین حسین کی درخواست کی سماعت کرنا تھی۔ زرین حسین نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کر رکھا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری غیرقانونی ہے، اس کے علاوہ وہ شوگر اور بلڈ پریشر سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہیں،اس لئے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔وکلا کی ہڑتال کے باعث زرین حسین کی درخواست کی سماعت نہ ہوسکی اور عدالت نے ڈی جی رینجرز کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، انہیں 26 اگست کو سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے اجلاس کی صدارت کررہے تھے تاہم انہیں ایک روز بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے 90 روز کے لئے رینجرز کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔
ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری پر ڈی جی سندھ رینجرز کو دوبارہ نوٹس جاری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا
-
وفاقی حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بارے اہم فیصلہ
-
موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے وزیر تعلیم کا اہم بیان آگیا
-
لاپتہ ہوٹل مالک کو کھانے والا 15 فٹ لمبا مگرمچھ دریا سے نکال کر ہلاک کر دیا گیا
-
تیزہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
نواز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا
-
سرکاری ملازمین کیلیے عید الاضحیٰ سے قبل بڑی خوشخبری
-
معرکہ حق، چین نے پاکستان کی فضائیہ کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تصدیق کردی
-
لاہور،رکشہ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاکر 2لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
-
سی ڈی اے نے 98 غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں کی فہرست جاری کر دی
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ! حکومت نے والدین کی بڑی مشکل آسان کردی
-
امریکی حکومت خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر لے آئی



















































