جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

نئے خیبرپختونخوا کی نئی بلدیاتی حکومت،پرویزخٹک نے تاریخی عملی اقدام کااعلان کردیا

datetime 28  اگست‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہاہے کہ آئندہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کامیابی کا انحصارپی ٹی آئی کی ضلعی حکومتوں کی اعلیٰ کارکردگی اور عوام خصوصاًغریبوں کے ساتھ رابطے اور اعلیٰ برتاﺅ پر ہوگا ۔ صوبے کی تمام ضلعی حکومتوں کو اُن کی سیاسی وفاداریوںسے قطع نظرمساوی ترقیاتی فنڈز جاری کئے جائیں گے تاکہ تمام اضلاع کی مساوی ترقی یقینی ہو سکے۔ ایک روز بعد وزیراعلیٰ اورصوبائی وزراءکے بیشتر اختیارات ارکان صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ کے 30 فیصد حصے سمیت پی ٹی آئی کے وعدے کے مطابق بلدیاتی اداروںکو منتقل ہو جائیں گے اس لئے بلدیاتی اداروں کو غریب عوام کے حق و انصاف کیلئے اُسی طرح کی صاف شفاف مخلصانہ اور غریب پرورعوام دوست اور دیانتدارانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گاجس طرح پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے گزشتہ دو سالوں کے دوران کیا ہے وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر بلدیاتی اداروں کی کارکردگی ناقص پائی گئی تو صوبائی حکومت اُن کے اختیارات واپس لینے پر مجبور ہو جائے گی وہ آج بنوں کی یونین کونسل کالا خیل مستی خان میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے جلسے سے وزیراعلیٰ کے معان خصوصی برائے ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد وزیر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور وزیراعلیٰ کی بنوں آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بنوں کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی لینے پر اُنہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں پی ٹی آئی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو بڑی بڑی بے کار عمارتوں اور غیر معیاری سڑکوں کی تعمیر کیلئے ووٹ نہیں دیا بلکہ اُس کرپٹ اور امتیازی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے ووٹ دیا جس میں عام اور خصوصاًغریب اور کمزور آدمی اپنے حق سے محروم رہتاتھا وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت غریبوں کی حمایت اور دعاﺅں کیلئے انتھک جدوجہد کر رہی ہے تاکہ ملک کو مضبوط اور خوشحال بنانے کیلئے غریب اور کمزور طبقہ طاقتور بن کر تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا ہواُنہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کو ملک کے اکثریتی غریبوں اور عام لوگوں کی حمایت حاصل ہو گی تو پھر دُنیا کی کوئی طاقت پی ٹی آئی کو قومی سطح پر بھی اقتدار میں آنے سے نہیں روک سکے گی وزیراعلیٰ نے کہاکہ کسی ضلع میں پی ٹی آئی حکومت بنے یا نہ بنے اسے فنڈ ز دوسرے اضلاع کے برابر ملیں گے اور جب تک صوبے میں پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت موجود ہے کسی بھی ضلع یا تحصیل کے فنڈز نہیں روکے جائیں گے بلکہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اضلاع کو اضافی وسائل بھی مہیا کئے جائیں گے وزیراعلیٰ نے بلدیاتی نمائندوںپر زور دیا کہ وہ ترقیاتی سکیموں اور عوامی خدمات کا اعلیٰ معیار اس حد تک یقینی بنائیں کہ گزشتہ حکومتوںاور پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں فرق واضح طور پر نظر آئے اُنہوں نے کہاکہ تبادلوں، تقرریوں اور بنیادی سہولتوں کے تمام اختیارات اب بلدیاتی اداروں کے پاس ہیں اسلئے سکولوں ، ہسپتالوں، پولیس، پٹوار خانوںاور ضلعی سرکاری محکموں کو صوبائی حکومت کی اصلاحات کے مطابق چلانے اور انہیں عوام کا حقیقی خدمت گار بنانے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے اُنہوں نے کرپشن ، اقرباءپروری اور رشوت وسفارش کے خلاف صوبائی حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کرپشن میں ملوث بڑے بڑے مگرمچھ اب جیلوں کی ہوا کھار ہے ہیں اُنہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری دفاتر میں اپنے حق کیلئے ہرگز رشوت نہ دیں پرویز خٹک نے کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کیلئے بھی صوبائی حکومت کی طرح صرف ایک ایجنڈا ہونا چاہیئے کہ غریب آدمی کو اُس کا حق اور انصاف ملے اور تھانے، پٹوار خانے ، سکول، کالج، ہسپتال یا کسی سرکاری دفتر میں اسے کوئی تکلیف نہ ہو اور امیر کی طرح غریب کی بھی عزت کی جائے اُنہوں نے کہاکہ لوگوں کیلئے آسانیاں ہو ں گی تو ملک ترقی کرے گااس موقع پر نو منتخب ضلع کونسلر شاہد خان کال خیل کی جانب سے ادریس خان نے ضلعی حکومت بنانے میں تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…