اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

دوبارہ رابطہ کرنے پر ایم کیو ایم نے استعفوں کے معاملے پر پھر مشاورت کا عندیہ دیدیا

datetime 23  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(اے این این) پارلیمنٹ سے استعفوں کے معاملے پر بات چیت میں حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے رکن اسمبلی اور جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دوبارہ رابطہ کرنے پر ایم کیو ایم نے اس معاملے پر پھر مشاورت کرنے کا عندیہ دے دیا ۔ اس سلسلے میں جے یو آئی کے ترجمان جان اچکزئی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے ایم کیو ایم سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد مولانا نے ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ بات کی۔ جماعت کے ترجمان نے کہا کہ اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن کو یقین دلایا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ اپنی مصالحتی کوششیں جاری رکھیں۔ جان اچکزئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے اور ان کے جائز مطالبات کو بھی تسلیم کیا جائے گا اس لیے مذاکرات کے نئے دور کو جلد از جلد شروع کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے جمعے کی شب اسمبلیوں میں واپسی کے لیے حکومت سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے اراکین کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی سے مستعفی سمجھا جائے۔جمعے کی شب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے گذشتہ روز دورہ کراچی میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور ایم کیو ایم سے مذاکرات اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی بات نہیں کی۔ تاہم جمیعت علما اسلام ف کے ترجمان جان اچکزئی نے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے مذاکرات کو ختم کرنے کی اصل وجہ بتانے سے گریز کی اور کہا کہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی امید ابھی باقی ہے لہذا اس قسم کی باتوں سے وہ امید بھی ختم ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…