اسلام آباد/لاہور (اے این این) گیارہ مئی دو ہزار تیرہ کو ملک بھر میں ہونیوالے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے ایک سو بائیس سے مسلم لیگ سردار ایاز صادق 93 ہزار 389 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ عمران خان 84517 ووٹ حاصل کر سکے یعنی عمران خان کو 8 ہزار 872 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان نے پانچ جولائی دو ہزار تیرہ کو الیکشن ٹربیونل میں این اے 122 کے نتائج کو چیلنج کر دیا۔ ستمبر دو ہزار تیرہ کو الیکشن ٹربیونل کی کاروائی کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی نے لاہور ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ نومبر دو ہزار چودہ کو لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن ٹربیونل کو این اے ایک سو بائیس دھاندلی کیس کی کاروائی کی اجازت دیدی۔ ہائیکورٹ نے ٹربیونل کی کاروائی روکنے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی یعنی 14 مہینوں کے بعد ہائیکورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف کاروائی پر حکم امتناعی خارج کر دیا۔ دسمبر دو ہزار چودہ کو ٹربیونل کے جج کاظم ملک نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے حلقے کے ووٹوں کی جانچ پڑتال کی درخواست کو منظور کر لی۔ ٹربیونل نے جانچ پڑتال کے لیے ریٹائرڈ سیشن جج غلام حسین کو لوکل کمیشن مقرر کیا۔ لوکل کمیشن نے 48دنوں میں ووٹوں کی جانچ پڑتال مکمل کر کے انکوائری رپورٹ ٹربیونل میں جمع کروا دی۔ لوکل کمیشن نے واضح کیا کہ این اے 122 میں بے ضابطگیاں ضرور ہیں لیکن دھاندلی نہیں ہوئی۔ چودہ فروری دو ہزار پندرہ ٹربیونل نے این اے 122 کا ریکارڈ نادرا کو بھجوانے سے متعلق عمران خان کی ایک اور درخواست منظور کر لی گئی۔ نادرا نے چارماہ کے بعد یعنی 14جون 2015 کو این اے 122کی فرانزک رپورٹ ٹربیونل میں جمع کروائی۔ نادرا کی رپورٹ 781صفحات پر مشتمل تھی۔ نادرا نے اپنی رپورٹ میں این اے 122 بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا ذکر کیا۔ نادرا نے این اے 122میں کل کاسٹ کیے گئے 1 لاکھ 84 ہزار 151ووٹوں کی تصدیق کی جس میں سے 73ہزار 478ووٹوں کی انگوٹھوں کے نشانات کے ذریعے تصدیق ہو سکی۔ ووٹوں کی حتمی رپورٹ کے بعد نادرا حکام نے ایک سپلیمنٹری رپورٹ بھی ٹربیونل میں جمع کرائی جس کو کیس کا حصہ بنانے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔16جون کو ٹربیونل کے جج کے حکم پر عمران خان اور سردار ایاز صادق کے وکلا نے حتمی دلائل کا آغاز کیا۔ 17اگست کو عمران خان اور سردار ایاز صادق کے وکلاء نے حتمی دلائل مکمل کیے جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ این اے 122میں مبینہ دھاندلی کیس کی مکمل کاروائی دو سال ایک ماہ 17 دن کے بعد مکمل ہوئی۔ این اے 122 میں دھاندلی کیخلاف کیس کی مجموعی طورپر 58مرتبہ سماعت کی گئی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
تیل کی قیمتیں مزیدکم ہوں گی،وزیر مملکت نے خوشخبری سنادی
-
مڈل کلاس طبقے کے لیے اب امپورٹڈ گاڑی خریدنا آسان؟ بڑی خوشخبری آگئی
-
اواتار مائونٹین
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
یکم جولائی کے بعد پاسپورٹ دفاتر جانے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کردیا
-
ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ کتنی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی؟
-
3 روزہ تعطیلات کا اعلان
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑی کمی
-
شہباز شریف نےصدر زرداری کو چھتری دینے سے انکار کر دیا، نور خان ائیر بیس پر دلچسپ صورتحال
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارتی شہری کوایئرلائن کی میزبان سے چھیڑچھاڑ مہنگی پڑ گئی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی



















































