لاہور(نیوز ڈیسک)این اے 122مبینہ دھاندلی کیس کا فیصلہ سنائے جانے سے قبل ہی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد الیکشن کمیشن کے باہر پہنچ گئی ،ایک دوسرے کے خلاف مخالفانہ نعرے بازی کی وجہ سے درجہ حرارت عروج پر رہا اور دونوں جماعتوں کے کارکنوں کی آپس میں اور پولیس سے ہاتھا پائی ہوتی رہی جبکہ اس موقع پر کارکنوں کی جانب سے ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں،(ن) لیگ کے کارکنوں نے بیچ بچاﺅ کرانے والے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جمشید اقبال چیمہ پر حملے کی کوشش کی تاہم پی ٹی آئی کے کارکنوں نے لیگی کارکنوں کو پیچھے دھکیل دیا ۔تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹربیونل کی طرف سے این اے 122مبینہ دھاندلی کیس کا فیصلہ سنائے جانے کی پیشگی تاریخ کا اعلان ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد مقررہ وقت سے پہلے ہی الیکشن کمیشن پہنچ گئی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں کے کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور مخالفانہ نعرے بازی کی وجہ سے درجہ حرارت بھی بڑھتا رہا۔ اس موقع پر دونوں جماعتوں کے کارکن پارٹی پرچم اور اور اپنی اپنی قیادت کی تصاویر اٹھا ئے گو نواز گو ، جعلی اسپیکر نا منظور ،رو عمران رو ، شیر شیر کے نعرے لگاتے رہے ۔ الیکشن ٹربیونل کے سربراہ کی طرف سے کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کےلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت کے پیش نظر ایس پی سکیورٹی اور ایس پی سٹی کی قیادت میں پولیس کی چار ریزرتعینات رہی لیکن دونوں جماعتوں کے پر جوش کارکنوں کے سامنے پولیس اہلکار بے بس دکھائی دئیے ۔ بعد ازاں حالات کی نزاکت اور خواتین کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے کمانڈوز کے ساتھ ساتھ لیڈی پولیس اہلکاروں کو بھی طلب کر لیا گیا ۔پولیس کی طرف سے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان سکیورٹی حصار قائم ہونے کے باوجود کئی مرتبہ کارکن نعرے بازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور ان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی او رایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں جبکہ دونوں جماعتوں کے کارکن بیچ بچاﺅ کرانے والے پولیس اہلکاروں سے بھی الجھتے رہے اور ہاتھا پائی کرتے رہے ۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جمشید اقبال چیمہ اپنے کارکنوں کو پیچھے ہٹانے کے لئے آئے تو لیگی کارکنوں نے ان پر حملے کی کوشش کی تاہم پی ٹی آئی کے کارکنوں نے انہیں پیچھے دھکیل دیا اور پولیس کی بروقت مداخلت کی وجہ سے ایک بڑے تصادم کا خطرہ ٹل گیا ۔ جمشید اقبال چیمہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے پر امن لوگ ہیں لیکن (ن) لیگ کی طرف سے پولیس کے بل بوتے پر غنڈہ گردی کی گئی ۔پولیس نے جانبدار ی کا مظاہرہ کیا ہمارے کارکنوں کو روکا گیا جبکہ لیگی کارکنوں کو کھلی چھٹی دی گئی جو پی ٹی آئی کی خواتین سے بد تمیزی اور انہیں دھکے دیتے رہے ۔بعد ازاں پولیس نے دھکم پیل زیادہ ہونے کی وجہ سے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو پیچھے ہٹا کر واضح فاصلہ قائم کر کے بیرئیر کھڑے کر دئیے اور انہیں مقررہ حدود سے باہر آنے سے سختی سے روکدیا گیا۔
این اے 122فیصلہ ، کارکن آمنے سامنے، پولیس نمٹنے کو تیار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)
-
عابد شیر علی کی دوسری شادی !دلہن کون ہےاورتعلق کس خاندان سے ہے؟
-
سہیل خان کا اچانک بدلا ہوا روپ وائرل؛ مداحوں کی تشویش پر اداکار نے تبدیلی کی اصل وجہ بتا دی
-
عابد شیر علی نے دوسری شادی کرلی
-
سگے بھانجے نے ماموں کی غیر موجودگی میں ممانی کو اکیلا پا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
پاکستان ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ میں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا
-
حکومت کا ڈیزل کی قیمت میں حیران کن کمی کا فیصلہ
-
بینک سے آسان اقساط پر گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خبر
-
آپ کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس بلاک کردیا جائے گا؟تفصیلات جانیے
-
نور بخاری نے سابق شوہر سے دوبارہ شادی کیوں کی؟ اداکارہ نے وجہ بتا دی
-
سیرین ایئر کا پاکستان میں آپریشن مکمل بند، ایئرپورٹس سے دفاتر بھی خالی کر دیئے گئے
-
معروف اداکارہ کا 35 برس کی عمر میں اچانک انتقال، خبر کو ایک ماہ تک پوشیدہ کیوں رکھا گیا؟
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری
-
سنی دیول 56 کروڑ روپے کے قرض میں کیسے ڈوبے؟ اداکار نے حقیقت بتا دی



















































