جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

عامر لیاقت کا ہندوستان کی گیتا کو گھر پہنچانے کا عزم

datetime 26  جولائی  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستان کی شاہدہ کو فلمی کہانی میں ہندوستان سے ماں کے پاس سلمان خان نے پہنچادیا،زندگی کی فلم میں ہندوستان کی گیتا کو پاکستان سے گھر کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ڈاکٹر عامر لیاقت نے ارادہ باندھ لیا،واہگہ بارڈر پر ماں کی آغوش میں دینے کا عزم کرلیا۔ ایک کہانی بڑے پردے پر، ایک ٹی وی کی اسکرین پر، ایک کہانی ہندوستانی، ایک جذبہ پاکستانی،فلمی کہانی میں ماں باپ سے بچھڑی پاکستان کی شاہدہ کوبھارت میں بجرنگی کی صورت میں سرحد پار پہنچانے کا وسیلہ مل گیا، زندگی کی فلم میں ہندوستان کی گیتا کے لیے ڈاکٹر عامر لیاقت کی صورت میں امید کی کرن بن گئے، سلور اسکرین پر بے زبان شاہدہ کا دکھ بجرنگی نے ا?نکھوں کی زبان سے محسوس کیا، تو اصل کہانی میں ڈاکٹر عامرلیاقت نے گیتا کے دل کی آواز جان کر اسے گھر کی دہلیز تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔ ایک فلمی بجرنگی جو فلمی کہانی میں بنا پاسپورٹ اور ویزے کے فلمی انداز لیے پاکستان چلا ا?یا، ایک ہے اصل کردار جو ڈال سے بچھڑی ہندوستانی کونج کو اس کے آشیانے تک پہنچانے کے لیے بے قرار نظرآیا۔ فلم کی شاہدہ کو تو طویل سفر طے کرنے کے بعد ماں کی آغوش نصیب ہوگئی،گیتا کب سرحد کے پار ماں کے سنگ خوشی کے گیت سنے گی،اس کا انتظار ڈاکٹر عامر لیاقت کے ساتھ ہمیں بھی ہوگا۔ بشکریہ جنگ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…