جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے جے ایف تھنڈر طیاروں کے پہلے برآمدی آرڈر سے بھارت پریشان

datetime 22  جولائی  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) پاکستان فضائیہ نے بھارتیوں کی نیندیں حرام کردیں. پاکستان کے جے ایف تھنڈر طیاروں کے پہلے برآمدی آرڈر نے بھارت کو پریشان کردیا ہے۔ بھارت کے ملکی سطح پر تیار تیجاس طیاروں کو جنگی آپریشنل کیلئے تیار ہونے میں مزید ایک سال درکار ہوگا۔ بھارتی اخبار’’ٹائمز آف انڈیا اور اکنامک ٹائمز‘‘ نے جے ایف تھنڈر اور تیجاس کا موازنہ کرتے ہوئے ملکی سطح پر تیار اپنے تیجاس طیاروں کو ناقص قرار دیا ہے۔معروف دفاعی تجزیہ نگاررفیق مانگٹ کے مطابق تیجاس لڑاکا طیارے رافیل اور سخوئی کی طرح کثیر جہتی جنگی صلاحیتوں کے حامل نہیں اور نہ ہی وہ چین میں ہدف کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان پہلے ہی چین کی مدد سے تیارکردہ اپنے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کاپہلا برآمدی آرڈر حاصل کرچکاہے جبکہ بھارت کے ملکی سطح پر تیار تیجاس لڑاکا طیاروں کو جنگی آپریشن کے لئے مکمل طور پر تیارہونے میں ایک سال لگے گا۔بھارت کے لئے سب سے زیادہ تشویش اس پر بھی ہے کہ طاقتور انجن کے حامل تیجا س مارک ٹو کاپہلا پروٹو ٹائپ کو ابھی فضاؤں میں جانے کیلئے مزید تین سے چار سال لگیں گے۔ پاکستان اور چین سے شدید خوفزدہ بھارتی فضائیہ کے پاس موجود 35اسکواڈرن میں سے بھی نصف طیارے آپریشن کے قابل ہیں جب کہ بھارت کو اس وقت 44اسکواڈرن کی ضرورت ہے۔بھارت کو یہ فکر بھی لاحق ہے کہ ان کی موجودہ فضائی طاقت متروک،ناقص کارکردگی اور مرمتی عمل کا شکار ہے۔ بھارت کے فرانس کے ساتھ 36 رافیل طیاروں کیلئے جاری کمرشل مذاکرات میں انڈین ائیرفورس ان طیاروں کی تعداد کو دگنا کرنے پر زور دے رہی ہے۔ان طیاروں کے معاہدے پر اسی ماہ دستخط ہوں گے۔ تاہم ان فرانسیسی طیاروں کی ترسیل میں دو سال سے زائد کا عرصہ لگے گا۔ مگ 21اور مگ27 طیاروں کو گراؤنڈ کیے جانے کا عمل جاری ہے۔سنگل انجن تیجا س کو حتمی فضائی کلیئرنس آئندہ برس وسط میں ملنے کا امکان ہے۔ تاہم تیجاس لڑاکا طیارے رافیل یا سخوئی لڑاکا طیاروں کی طرح کثیر جہتی جنگی کردار پر پورا نہیں اترتے ان کی رینج صرف چار سو کلومیٹر اور ہتھیاراٹھانے کی صلاحیت رافیل اورسخوئی سے ایک تہائی کم ہے۔انہیں چین کو ہدف بنانے کے لئے بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…