الطاف حسین کے فیصلے نے سب کو حیران کردیا

  منگل‬‮ 21 جولائی‬‮ 2015  |  1:39

کراچی(نیوزڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم ) کے قائد الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ظالموں کے آگے سر نہیں جھکاﺅں گا اور اپنی جان دے دوں گا مگر مظلوم و محروم عوام کے حقوق اور مفادات کا ہرگز سودا نہیں کروں گا۔لندن سے جاری بیان کے مطابق الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ قائد ایم کیوایم کا کہنا ہے کہ میں نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ میں ظالموں کے آگے سرنہیں جھکاﺅں گا، اپنی جان دے دوں گا


مگر مہاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام مظلوم ومحروم عوام کے حقوق اور مفادات کا سودا ہرگز نہیں کروں گا، تادم مرگ بھوک ہڑتال سے اپنی جان دے کر میں اپنا یہ وعدہ پوراکرنے جارہاہوں۔الطاف حسین نے کہا کہ آج پاکستان کے قیام کو 67 سال گزرجانے کے باوجود مہاجروں کو برابر کا پاکستانی شہری نہیں سمجھا جاتا، برسہابرس سے جاری مہاجروں کے قتل عام میں ہزارہامہاجر شہید کیے جاچکے مگر کسی ایک مہاجر کے قاتل کوبھی گرفتارنہیں کیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 کے عشرے میں اس وقت کی سندھ کی صوبائی حکومت نے کوٹہ سسٹم نافذ کرکے اور لسانی بل پیش کرکے سندھ کے مستقل باشندوں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے مہاجروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جس کے بعد اندرون سندھ میں ایک منظم سازش کے تحت لاکھوں مہاجروں کو نقل مکانی پر مجبور کیاگیا، ہزاروں بے گناہوں کو قتل، سیکڑوں کو زخمی اورلاکھوں افراد کو بے گھر کیاگیا، اس قتل عام اور ظلم کے ذمہ دارکہاں ہیں اور آج تک ان کے خلاف کیا ایکشن لیاگیا ہے الطاف حسین نے کہا کہ کراچی میں امن کی سب سے بڑی داعی ایم کیوایم ہے ، کراچی میں سب سے پہلے آپریشن کا مطالبہ ایم کیوایم ہی نے کیاتھا اور مجرموں ، قاتلوں اوردہشت گردوں کے خلاف ایک بلاامتیاز ،غیرجانبدارانہ اورشفاف آپریشن کامطالبہ کیا تھا لیکن جب آپریشن شروع کیاگیا تو صرف ایم کیوایم کو نشانہ بنایا گیا، ایک مرتبہ پھر کراچی کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیاگیا، اس آپریشن میں ایم کیوایم کے 4 ہزار سے زیادہ کارکنان کو گرفتارکیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مہاجروں کے خلاف جاری ظلم وناانصافی کو رکوانے اورانہیں پاکستان میں ایک باعزت مقام دلوانے کیلئے اپنی زندگی صرف کردی لیکن میری تمام تر کاوشوں کے باوجود نہ تو مہاجروں کی نسل کشی رک سکی اورنہ ہی ان کو انصاف مل سکا ہے اب ان حالات میں میرے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں کہ میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاں۔قائد ایم کیوایم نے کہا کہ بھوک ہڑتال کے انتظامات شروع ہوچکے اور مقامی انتظامیہ سے اجازت ملتے ہی میں بھوک ہڑتال شروع کردوں گا، میری موت کے بعد پارٹی کے معاملات مکمل طورپر رابطہ کمیٹی کے ہاتھ میں ہوں گے اور پھررابطہ کمیٹی کی مرضی ہے کہ وہ تحریک کو جاری رکھیں یا اس کے خاتمے کا اعلان کردیں جب کہ رابطہ کمیٹی کو یہ وصیت ہے کہ تحریک کے شہدا کو ہمیشہ یادرکھا جائے۔