منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

امیر زادے شادی کے خواہشمند تھے مگر اپنا کیریئر بچانے کے لئے شادی نہیں کی، ایان علی

datetime 5  جولائی  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) خو برو ماڈل ایان علی کی گرفتاری سے قبل استعمال ہونے اے ٹی ایم کارڈ کی تفصیلات منظر عام پر تاحال نہ آ سکیں ۔یہ کارڈ دبئی میں استعمال کیا گیا جبکہ ماڈل اپنے سٹیٹس سے کہیں زیادہ 30 سے 45 ممالک کی سیر کر چکی ہیں ایسے علاقوں کی سیر بھی کر چکی ہیں کہ جہاں کا روزانہ کا کرایہ پاکستانی 3 سے 5 لاکھ روپے بنتے ہیں ۔ ذرائع نے آن لائن کو بتایا ہے کہ ایان علی نے اپنی کتاب اسیر صیاد میں لکھا ہے کہ دنیا کے ایسے ممالک کی بھی سیر کی ہے جو کسی بھی شخص یا عورت کا خواب ہو سکتے ہیں بڑے بڑے امیر زادے شادی کے خواہشمند تھے مگر انہوں نے اپنے کیریئر کو بچانے کے لئے شادی نہیں کی ۔ ایک آفر ایسی بھی آئی کہ جس کے بارے میں سوچ کر بھی خوفزدہ ہو جاتی تھی کہ آخر مجھ میں ایسی کیا خوبی ہے کہ اتنا بڑا امیرزادہ صرف مجھے اپنانے کے لئے اس حد تک جانے کو تیار ہے ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ماڈل ایان علی لکھتی ہیں کہ ان کے بعض اے ٹی ایم کارڈزبارے تاحال تفصیلات نہیں مل سکی ہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں گرفتاری کے وقت ان کے ایک اے ٹی ایم کارڈ کی دبئی میں استعمال کی خبر ملی تھی مگر ابھی تک اس بارے حتمی اطلاع نہیں مل سکی ہے کہ وہ اے ٹی ایم کارڈ کہاں ہے اور کسی نے اور کیوں استعمال کیا ہے ۔ تحقیقاتی ادارے اس کارڈ بارے بھی اپنی تحقیقات کر رہے ہیں مگر انہیں اس بارے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے ۔ ماڈل اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 67 پر لکھتی ہیں کہ جیل میں ایک تحفظ کا سا احساس ہوتا ہے جیل کا عملہ مجھے اور میں ان کو سمجھ چکی ہوں ۔ اس لئے کسی چیز کو منگوانے یا خواہش کرنے میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔رمضان المبارک کی برکات سے دل کی دنیا بدل رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کائنات میں ” میں ہی سب سے بری ہوں “ مگر اللہ تعالیٰ میرے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ اس نے توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیشن جج کسٹم رانا آفتاب ڈائریکٹریٹ جنرل کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کے پاس درخواست کی سماعت آج پیر کو ہو گی جس میں ایان علی کو پیش کیا جائے گا ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…