بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اینٹی نارکوٹکس فورس نے 6 ماہ میں 2.2 ارب ڈالر کی منشیات پکڑی

datetime 4  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اینٹی نارکوٹکس فورس نے رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کے راستے افغانستان سے عالمی مارکیٹ میں اسمگل کی جانے والی 89 ٹن منشیات ضبط کرلی، جس کی مالیت 2.2 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے، یہ وہ مقدار ہے جو اے این ایف نے پکڑ لی جو نہیں پکڑی جا سکی اس منشیات کا ڈیٹا دستیاب نہیں، تاہم بعض اندازوں کے مطابق پاکستان کے ذریعہ ہر سال تقریباً 200 ٹن ہیروئن اسمگل ہوتی ہے جس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 20 ارب ڈالرز ہے، سیاہ معیشت (بلیک اکنامی) کی مقدار ملک کی اصل معیشت سے زیادہ ہے، اے این ایف کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ہزاروں میل طویل سرحدوں و ساحلی پٹی کے باعث پکڑی گئی منشیات اس سے کم ہے جو اپنی منزل پر پہنچ گئی، سرحدوں کی سو فیصد حفاظت ممکن نہیں، گزشتہ چھ ماہ کے دوران اینٹی نارکوٹکس فورس نے ملک بھر میں 589 آپریشن کیے اور 19409 کلوگرام (19 اعشاریہ 4 ٹن) افیون، 6374.687 کلوگرام ہیروئن، 62258.44 کلو حشیش، 543 کلو مارفین اور 3.652 کلو کوکین ضبط کی، جنوری 2015ء سے اب تک 738 ہینڈلرز، ٹرانسپورٹرز کو گرفتارکیا گیا، بیشتر منشیات بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پکڑی گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ پکڑی گئی منشیات کی عالمی منڈی میں مالیت 2.2 ارب ڈالرز ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر افیون 45576 روپے کلو فروخت ہوتی ہے جبکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت کم از کم 13500 ڈالر فی کلو ہے اور بعض ممالک میں 30000 ڈالر فی کلو تک چلی جاتی ہے، اسی طرح ہیروئن کی قیمت بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق 64230 ڈالرز فی کلوگرام سے شروع ہو کر بعض مارکیٹس میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کلو تک چلی جاتی ہے۔عالمی منشیات مارکیٹ میں حشیش کم از کم 24700 ڈالر کلو، کوکین 50125 ڈالر کلو فروخت ہوتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آنے والی بیشتر منشیات افغان صوبے ہلمند سے آتی ہے، پاکستان ٹرانزٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے یہاں سے مشرق وسطیٰ ، چین، آسٹریلیا، امریکا، افریقہ اور یورپ اسمگل کر دی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے منشیات لا کر بلوچستان میں ذخیرہ کر دی جاتی ہے پھرٹکڑوں میں آگے بھیجی جاتی ہے۔ بیشتر سمندر میں کشتیوں کے ذریعہ ایران سے ترکی پھر یورپ اسمگل ہوتی ہے۔ اے این ایف کے مطابق منشیات کی کھیپ ہلمند افغانستان سے منشیات کا اسمگلر حاجی محمود علی زئی بھیجتا ہے اور برابچا بلوچستان میں موجود ولی محمد بلوچ وصول کرتا ہے۔ اے این ایف کے ترجمان کے مطابق 20 جون کو بہت بڑی مقدار پکڑی گئی، اے این ایف نے ملک کے مختلف حصوں میں سات آپریشن کیے اور 10 اعشاریہ 6 ٹن چرس، 517 کلو مارفین، 55 کلو افیون اور 930 گرام میتھام فیٹا مائن ضبط کرلی، اس کی مالیت عالمی منڈی میں 26 ارب روپے بنتی ہے



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…