جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ، سیکرٹری خارجہ

datetime 25  جون‬‮  2015 |

کہ سابق صدر ، چیف آف سٹاف پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں ایٹمی مواد فروخت کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر قدیر کا ذکر کیا ہے مواد کا وزن 18 ٹن تھا فرد واحد اٹھا کر نہیں لے جا سکتا اور انکوئری کو مزید آگے بڑھایا جائے ملوث لوگوں کو شامل تفتیش کر لیا جاتاتو ریاست کا اعتبار کچھ بحال ہو جاتا سیکرٹری خارجہ نے وضاحت کی کہ نیٹ ورک میں 20 دیگر ممالک کے باشندے بھی شامل تھے بنگلہ دیش میں موجود شہریوں کی پاکستانی شہریت کے حوالے سے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ معاملہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہے سینیٹر کریم خواجہ اور سینیٹر سسی پلیچو نے کہا کہ سندھ اوربلوچستان میں پہلے ہی غیر ملکیوں کا شدید دباﺅ موجود ہے بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے بچوں اور بنگلہ دیش بننے کے بعد رہ جانے والے شہریوں کی انسانی ہمدردی تک مدد کی جائے سٹینڈرڈ شہریت نہیں دی جاسکتی سینیٹر داﺅد خان اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ 1978 سے 37 سال میں پاکستان میں پیدا ہونے والے افغانی بچوں کو بھی پاکستان کی شہریت دینی چاہیے کینڈا امریکہ نے سٹینڈرڈ رکھا ہوا ہے ہم بھی شہری حق دے دیں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جو جہاں پید ا ہوتا ہے حق شہریت دے دیا جاتا ہے جو پاکستان میں پیدا ہو اسے بھی حق دیا جانا چاہیے سینیٹر عطاالرحمن نے کہا ک پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے اچھے طالبان برے طالبان اچھے دشمن برے دشمن کا رویہ ختم ہونا چاہیے باہر سے ہدایت لینا بندکی جائے اپنی سوچ کے تحت فیصلے کیے جائیں سیکرٹری خارجہ نے وضاحت کی کہ وزرات خارجہ کا سپریم کورٹ میں بنگلہ دیشی شہری کی طرف سے بنگلہ دیش ہائی کورٹ میں تحریری بیان کی روشنی میںہماری بھی رائے ہے کہ بنگلہ دیش ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بہاری شہریوں کوبنگلہ دیش کے شہری تسلیم کر کے پاسپورٹ جاری کر دیا گیا اور کہا کہ 30 لاکھ افغانی اپنے ملک واپس جائیں گے اس لئے ان پر شہریت کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سسی پلیچو اور کریم خواجہ نے بی بی سی کی ڈاکومنٹری کے حوالے سے پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کو بھارت سے مالی معاونت کا معاملہ اٹھایا جس پر سیکرٹری خارجہ نے آگاہ کیا کہ اس رپورٹ کے بارے میں داخلی ادارے معلومات اکھٹا کر رہے ہیں اگر رپورٹ میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے شوائد ملے تو معاملہ خارجہ سطح پر اٹھایا جائےگا کسی بھی ملک کو پاکستان میں مداخلت کا حق نہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…