جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

طاہرالقادری نے برطانیہ میں اپنا انسداد دہشت گردی نصاب متعارف کرا دیا

datetime 24  جون‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہرالقادری نے داعش اور القاعدہ جیسی عسکریت پسند تنظیموں کے پیغام کے رد میں ’’کائونٹر ٹیرر ازم‘‘ نصاب جاری کیا ہے تاکہ یورپ میں مسلم نوجوانوں کی عسکریت پسند بن کر ان کے نام یا متنازع علاقوں میں دہشت گرد گروپوں میں شمولیت کو روکا جا سکے۔ ویسٹ منسٹر ہال میں تقریب رونمائی کے موقع پر مختلف اسلامی تنظیموں کے نمائندے، سابق کابینہ وزیر سعیدہ وارثی، رکن پارلیمنٹ خالد محمود، تھنک ٹینکس اورمیڈیا سے وابستہ افراد موجود تھے۔ 900 صفحات پر مشتمل دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اس نصاب میں دہشت گردوں کی مذمت میں فتوے اور خودکش حملہ آوروں کی منزل دوزخ کو قرار دیا گیا ہے۔ طاہرالقادری نے اس موقع پر کہا کہ داعش مخالف اس نصاب کو برطانیہ میں موجود سیکڑوں آئمہ، مساجد اور مسلم تنظیموں نے قبول کیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ برطانوی مسلمان بچوں کے لئے اسے نصاب میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 700 برطانوی باشندوں نے شام اورعراق کا رُخ کیا۔ چند روز قبل ایک 17 سالہ لڑکے نے خود کو دھماکہ سے اُڑا لیا۔ تین پاکستانی نژاد برطانوی لڑکیوں کے بارے میں بھی خیال جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے 9 بچوں کے ساتھ شام کا دورہ کیا۔طاہرالقادری نے کہا کہ جوابی امن مہم چلا کر داعش جیسی دہشت گردتنظیموں میں بھرتیاں روکی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ان تمام دہشت گرد گروپوں کی اللہ یا مذہب کے نام پر سرگرمیوں کو قرآن و اسلام کی تعلیمات کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کا قتل قابل مذمت اور غیراسلامی فعل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوارج کا نظریہ ہے جو دنیا کو تقسیم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کو مضمون کے طور پر پڑھایا جانا چاہئے۔ اس نصاب کی رونمائی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی مسلم برادریوں سے اس اپیل کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو داعش جیسے گروہوں میں شامل ہونے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔ بعدازاں گفتگو کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ وہ ایسا نصاب رواں ماہ کے آخر میں پاکستان میں بھی متعارف کرائیں گے۔ سعیدہ وارثی نے حکومت کے تمام محکموں سے کہا کہ نصاب کو تعلیمی اداروں کا حصہ بنانے پر غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت نے برطانوی مسلم تنظیموں سے تعلق توڑ کر بھاری غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سب کی سنے اور انتہاپسندی کو شکست دینے کے لئے متفقہ حکمت عملی طے کرے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…