جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

بجٹ منظوری کامنفردواقعہ،ایوان میں وزیراعظم موجودتھے نہ اپوزیشن لیڈر

datetime 24  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی میں منگل کو حکومت کی جانب سے فنانس بل 2015-16کثرت رائے سے منظور تو کر لیا گیا تاہم بجٹ کی منظوری کے حوالے سے یہ واقعہ منفرد ہے کہ اس وقت نہ تو قائد ایوان وزیراعظم نوازشریف اور نہ ہی قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ایوان میں موجود تھے جبکہ بجٹ کی منظوری کے وقت وزرا کی بڑی تعداد بھی ایوان سے غیر حاضر تھی ۔ موجود وزرا کی تعداد8سے زیادہ نہیں تھی۔ اپوزیشن کے ارکان کو اس موقع پر کارروائی کا حصہ بنانے کیلئے ایوان میں لانے کی حکومتی کوششیں کسی طور بھی بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔ا سپیکر ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن جماعت کے پارلیمانی لیڈروں کو اپنے چیمبر میں مذاکرات کیلئے پندرہ منٹ کیلئے اجلاس کی کارروائی موخر کی تھی لیکن 30منٹ کے دورانیے پر محیط مذاکرات کا میاب نہ ہو سکے اس دوران خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی کی اپنے ارکان سے مشاورت کیلئے اسپیکر چیمبر سے آمدورفت جاری رہی۔ اپوزیشن کے ارکان کی عدم موجودگی میں نماز ظہر کے بعد جب اجلاس شروع ہوا تو اسپیکر نے ایک کوشش یا اتمام حجت کے طور پر پارلیمانی روایات کے تقاضے پورے کرنے کیلئے وزیراطلاعات پرویز رشید کو ہدایت کی وہ اپوزیشن کے ارکان کو منانے کی کوشش کریں۔ ہم اجلاس کی کارروائی شروع نہیں کرتے اور انتظار کریں گے اور وزیر مملکت آفتاب شیخ کو بھی ہمراہ لے جائیںذرا وزن بڑھ جائے گا۔ جب پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شگفتگی سے کہا کہ اگر وزن ہی بڑھانا ہے تو پھر ہمارے پاس وزیر تجارت خرم دستگیر بھی موجود ہیں ان کو بھیج دیں (واضح رہے کہ خرم دستگیر خاصے تنومند ہیں) جس پر سپیکر نے کہا کہ نہیں وزن کچھ زیادہ ہی بڑھ جائیگا۔ تقریباً دس منٹ انتظار کے بعد جب وزراء واپس نہیں آئے تو سپیکر نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے کہا کہ آپ جائیں اور تازہ ترین صورتحال دیکھیں اور اگر اپوزیشن واپس نہیں آرہی تو کم از کم اپنے وزرا ءکو تو واپس لے آئیں اور پھر ازراہ تفن پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ان کے بعد آپ تیار رہیں۔احسن اقبال کی واپسی میں بھی تاخیر ہوئی تو اسحاق ڈار نے کہا جناب سپیکر میرا خیال ہے کہ اپوزیشن آج آرام کے موڈ میں ہےکیونکہ 20منٹ ہو چکے ہیں ہم کب تک ان کا انتظار کریں گے۔ کچھ ہی دیر بعد ، چاروں وزرا ءواپس آگئے۔ پرویز رشید نے خورشید شاہ سے ملاقات کی ، تفصیلات بیان کیں جس کے بعد قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی عدم موجودگی میں بجٹ اجلاس پر کارروائی ہو ئی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور بجٹ منطور کر لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…