منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی پراپیگنڈامسترد،اقتصادی راہداری سے 3 ارب افراد کو فائدہ ہوگا،ڈار

datetime 3  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پاک چائنا اقتصادی راہداری پر ہندوستان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اس کو بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کے لیے قائم کیے گئے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اجلاس سے خطاب کررہے تھے، جس میں پاک چائنا اقتصادی راہداری پر قائم ایک تھنک ٹینک آر ڈی آئی کی شریک چیئرپرسن ڈاکٹر بیگی ڑاو اورسنکیانگ کےشہر کارامے کے میئر ہونگیان ڑانگ کی قیادت میں چین کے وفد نے شرکت کی۔انہوں نے ہندوستانی قیادت کی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ اقتصادی راہداری کا راستہ متنازعہ ہے۔ انہوں نے ہندوستانی قیادت کے سات پڑوسیوں کے نظریہ کو دوٹوک انداز میں رد کرتے ہوئے اس کو گمراہ کن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے راستے پر کوئی تنازعہ نہیں ہے، اور جس علاقے سے وہ گزرے گا، وہ تمام پاکستان کا حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے پاکستان چین تعاون کی نوعیت کو غلط انداز میں لیا تھا۔ انہوں نےمزید کہا کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ کسی کے مفاد کے خلاف نہیں ہے۔وزیرخزانہ نے کہا ”جنگ کے خبط کو صرف اقتصادی ترقی کے ذریعے ہی شکست دی جاسکتی ہے، اور امن اور خوشحالی اقتصادی ترقی کے ساتھ حاصل ہوسکتی ہے۔“اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ اب ایک حقیقت بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اقتصادی راہداری منصوبہ ناصرف چین اور پاکستان کے لیے بلکہ پورے خطے کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔“ان کا مزید کہنا تھا کہ راہداری منصوبے پر دستخط نے اس خطے کے تین ارب عوام کے لیے اقتصادی خوشحالی کا راستہ ہموار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 46 ارب ڈالرز کے اس پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبے میں 34 ارب ڈالرز نجی شعبے سے فراہم ہوں گے۔ ”ہم نے ان منصوبوں میں نجی شعبے کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی ہے۔“اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا تھا، اور 28 مئی کو منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبے کی توثیق کی تھی۔یک سرکاری بیان کے مطابق ڈاکٹر بیگی ڑاہو نے اسحاق ڈار کے نکتہ نظر کی توثیق کی اور کہا کہ چین اور پاکستان کا نکتہ نظر یکساں ہے۔انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ بلاشبہ اقتصادی راہداری منصوبہ ناصر چین اور پاکستان کے عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا، بلکہ اس سے پورے خطے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے اسحاق ڈار کو آگاہ کیا کہ آر ڈی آئی اقتصادی راہداری کے تحت ان منصوبوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا، اور ریسرچ اور اسٹڈیز کے ذریعے ان کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ڈاکٹر بیگی ڑاو¿ نے چین کے خودمختار علاقے سنکیانگ میں کارامے فورم کے قیام کا بھی ذکر کیا، جسے باو¿ فورم کی طرز پر تشکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تصور اقتصادی اور سماجی ترقی پر ایک مفید مکالمے کے لیے دونوں ملکوں کے پالیسی سازوں، پارلیمنٹیرین، معروف کاروباری شخصیات، کمپنیوں اور نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے گا۔9 اگست کو منعقد ہونے والے اس فورم کے اجلاس میں انہوں نےوزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو شرکت کی دعوت دی۔ڈاکٹر بیگی ڑاو¿ نے ایشین انفراسٹرکچر انوسمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے قیام میں پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بینک ایشیا کے ترقی پذیر ملکوں کے انفراسٹرکچر کے لیے سرمایہ، بین الاقوامی اقتصادی معاملات میں ایک نئی آواز اور عظیم تر آواز فراہم کرے گا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بطور بانی رکن کے اے آئی آئی بی کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنا ان کے لیے اعزاز تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…