منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے کتنے پاکستانی سکولز ہیں،تفصیلات منظر عام پر

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کی تعلیم کےلئے فارن مشنز کے زیر اہتمام کل 38 پاکستان انٹرنیشنل سکولز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 10 سعودی عربیہ ، 7 یو اے ای جبکہ ترکی شام ، قطر ، مصر ، چین ، ایران ، لیبیا اور یمن میں ایک ایک سکول قائم ہے ، کویت میں 5 اور عمان میں 6 پاکستان انٹرنیشنل سکولز قائم ہیں ۔ جمعرات کو قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین محمد افضل کھوکھر کی زیر صدارت منعقد ہوا ، اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سید ساجد مہدی اور ملک ابرار احمد نے شرکت کی ۔ وزارت خارجہ کے حکام نے کمیٹی کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کی تعلیم کےلئے قائم کیے گئے سکولوں اور ان کی کارکردگی بارے تفصیلی بریفنگ دی ۔ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یمن میں قائم سکول ، وہاں کی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے ۔ بحرین میں قائم 2 پاکستانی سکول وزارت خارجہ کی بجائے خود مختار بورڈ آف مینجمنٹ کے تحت چلائے جارہے ہیں ، مصر کے شہر قاہرہ میں قائم پاکستان سکول نرسری سے اے لیول تک کی تعلیمی سہولیات فراہم کررہا ہے ۔ سکول کو بے اے لیول تک اپ گریڈ کرنے کی تجویز زیر غور ہے ، فنڈز دستیاب ہونے پر سکول کو اپ گریڈ کردیا جائے گا ۔ سعودی عرب میں قائم 10 سکول وہاں کی وزارت تعلیم کی طرف سے دی گئی گائیڈ لائن کی روشنی میں کام کررہے ہیں ، ان سکولوں کے انتظامی معاملات کی دیکھ بھال سکولوں میں زیر تعلیم پاکستانی بچوں کے والدین پر مشتمل سکول مینجمنٹ کونسل چلا رہی ہے ۔ سعودی عرب کے قوانین کے تحت ان سکولوں کو اپ گریڈ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مقامی قوانین کے تحت کسی بھی غیر ملکی سکول کو بی اے لیول کی ایجوکیشن دینے کی اجازت نہیں ہے ۔ شام میں قائم پاکستان انٹرنیشنل سکول بھی اے لیول تک ہی تعلیمی سہولت فراہم کررہا ہے ۔ ان سکولوں میں 54 دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارتی مشنز کے ملازمین کے بچے بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ شام میں سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے گزشتہ پانچ سالوں میں شام میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس وقت صرف 48 پاکستانی طالب علم مصر میں قائم سفاتخانے کے انٹرنیشنل سکول میں زیر تعلیم ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…