منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایک صحافی کی طاقت

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اگرچہ یہ تمام خبری سازشی آراء پر مبنی تھیں کہ کیاشعیب شیخ کے پیچھے ریاض ملک ،داوﺅد ابراھیم یا آئی ایس آئی ہے ؟ جس وقت اس موضوع پر نیوز روم، پریس کلب اور ریستورانوں میں باتیں ہورہی تھیں تو ایک امریکی صحافی نے ان تمام سازشی آراءکو سن کر اس خبر پر تحقیق کی، اور ایک ایسی ایکسکلوسو خبر کے ساتھ آئے جوکہ شاید اس عشرے کی سب سے بڑی خبر ہو۔ ہمارے صحافیوں نے بھی گزشتہ کچھ سالوں میں کئی بڑی خبریں دیں ہیں ، اور جس میں انہیں زیادہ خطرہ بھی درپیش تھا اور کچھ صحافی اپنے کام کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پھر بھی یہ ایک بڑی خبر ہے اور اس کے آئی ٹی صنعت اور میڈیا پر دورس نتائج مرتب ہوں گے۔ جعلی ڈگریوں کے معاملے نے پاکستان اور ملک سے باہر لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ جنہوں نے یہ ڈگریاں جاری کیں انہیں قانون کی گرفت کا سامنا ہے لیکن جو لوگ غیر قانونی طریقے سے یہ ڈگریاں حاصل کررہے تھے ، ان کی جانب بھی ایک اخلاقی سوال کھڑا ہوتا ہے۔ میرے مطابق جو بھی اس کاروبار سے منسلک تھے انہیں اس غیر قانونی کام کی وجہ سے ذمہ دارٹھہرایا جانا چاہیے ، لیکن جو لوگ یہ ڈگریاں حاصل کررہے تھے وہ بھی معصوم نہیں ہیں۔ ڈیکلن والش اس وقت بھی اس خبرپر تحقیقات کررہے تھے جب ان سے 48 گھنٹوں میں پاکستان سے نکل جانے کا کہا گیا۔ نیویارک ٹائمز کی مکمل ادارتی مدد یا متاثرین اور ’ اندرونی ذریعے‘ کی مدد کے بغیر ان کےلیے اس خبر پر کام کرنا اور درست معلومات جمع کرنا اور دستاویزات حاصل کرنا ناممکن تھا۔ 2008کے انتخابات کے جعلی ڈگریوں کے معاملے نے پاکستانی سیاستدانوں کو پہلی مرتبہ متاثر کیا تھااور وزارء سمیت کئی ارکان اسمبلی اپنے عہدوں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے ، لیکن سب ہی ’ جعلی ڈگریوں ‘ کی اصل خبر سے چوک گئے۔ ’پہلے خبر حاصل کریںلیکن پہلے اس کی تصدیق کرلیں‘ یہ ایک مشہور مقولہ اور شاید یہ اس بات کی وجہ ہے کہ ڈیکلن والش کو اس خبر کی تصدیق کےلیے اتنا وقت کیوں لگا۔ ہم سب یہ یقین رکھتے ہیں کہ جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے ملزم بے قصور رہتا ہے اور میڈیا کو ملزم کےاس حق کا احترام کرنا چاہیے تاکہ وہ مقدمے کا دفاع کرسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…