جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

علمی سرقے کے مجرم کو تمغہ امتیاز سے نواز دیا گ

datetime 27  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد: اگرچہ حکومت نے علمی سرقے پر بلیک لسٹ کیے گئے ایک علمی شخصیت کو ایک ایوارڈ سے نوازے جانے کے فیصلے کی منسوخی کے بارے میں کوئی اقدام نہیں اْٹھایا ہے، اسی دوران ان کے خلاف علمی سرقے کا ایک اور کیس منظرِ عام پر آگیا ہے۔23 مارچ کو صدر ممنون حسین نے ڈاکٹر مسرور اکرام کو تمغہ امتیاز سے نوازا، جنہیں اعلیٰ تعلیم کے کمیشن نے بلیک لسٹ کردیا تھا۔ ڈاکٹر مسرور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پی آئی ای اے ایس) میں پڑھاتے ہیں۔اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے پی آئی ای اے ایس کے چار پروفیسروں سمیت ڈاکٹر مسرور اکرم کو علمی سرقے کا مجرم پایا تھا۔چاروں اساتذہ کو اس سال جنوری میں کم از کم دو سالوں کے لیے ’’بلیک لسٹ اسکالر‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم متعلقہ حکام نے اس حقیقت کو صدر سے پوشیدہ رکھا، جنہوں نے اس مرتبہ یومِ پاکستان پر انہیں ایوارڈ سے نوازا تھا۔بعد میں یہ معاملہ جب میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آیا تو وزیراعظم کے آفس نے حقائق کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی کمیشن سے تفصیلات طلب کیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی انکوائری ابھی جاری ہے۔ وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک اس پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔اسی دوران ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ مذکورہ پروفیسر نے ایک اور تحقیقی مقالے میں علمی سرقے کا بھی ارتکاب کیا تھا، جو 2005ء4 میں کینسر کی تحقیق کے ایک بین الاقوامی جریدے میں شایع ہوچکا تھا۔ڈان کو دستیاب ہونے والی اس تحقیقی مقالے کی نقل کے مطابق ڈاکٹر سرور اکرام نے ڈاکٹر شمراز فردوس اور ایک دوسرے مصنف کے ساتھ ایک تحقیقی مقالہ شایع کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقالے کا ایک اہم حصہ مختلف مطبوعات سے نقل کیا گیا تھا۔ڈاکٹر شمراز پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے ان چار فیکلٹی ممبرز میں شامل ہیں، جنہیں اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے بلیک لسٹ قرار دیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سرور اکرام اور ڈاکٹر شمراز کے اس تحقیقی مقالے 70 فیصد فیصد نقل فہرست کی مماثلت، 41 انٹرنیٹ ذرائع، 59 مطبوعات اور 9 طالبعلموں کے مقالات سے لیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ تاہم اس مقالے کو اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے اب تک سرقہ قرار نہیں دیا ہے، اس لیے کہ تاحال یہ معاملہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی سرقہ کمیٹی نے نہیں اْٹھایا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مقاملہ 2005ء4 میں شایع ہوا تھا، جبکہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن علمی سرقے کے معاملات کی چھان بین 2007ء4 میں شروع کی تھی۔ڈاکٹر سرور اکرام سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے 2005ء4 میں شایع ہونے والے مقالے کو اپنا ذاتی مقالہ قرار دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ’’مبینہ نقل شدہ مواد کو دیکھے بغیر جس کے بارے میں آپ بات کررہے ہیں، میں مزید تبصرہ نہیں کرسکتا۔‘‘تمغہ امتیاز کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’میں نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے بلیک لسٹ قرار دیے جانے کے خلاف ایک اپیل دائر کردی ہے، اور اس سلسلے میں فیصلے کا انتظار ہے۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…