پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مائیکروچپس سے نگرانی کی خبر ملنے پر فورتھ شیڈول میں شامل 600 سے زیادہ افراد روپوش

datetime 12  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں شامل افراد میں سے چھ سو سے زیادہ ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد روپوش ہوگئے ہیں کہ حکومت ان کی نگرانی کے لیے جدید آلات کا سہارا لینے والی ہے۔فورتھ شیڈول میں ایسے افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو سماج دشمن سرگرمیوں اور فرقہ وارانہ تنازعات میں ملوث رہے ہوں اور انھیں باقاعدگی سے اپنی نقل و حرکت کی اطلاع مقامی تھانے کو دینا ہوتی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق روپوش ہونے والے تمام افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ا±ن افراد کا سراغ لگانے اور حراست میں لینے کا حکم دیا گیا ہے تاہم ان کے بارے میں متعلقہ تھانوں کو بھی معلومات نہیں کہ وہ کہاں پر ہیں۔ایسے افراد کا سراغ لگانے کے لیے مقامی تھانوں، سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق پنجاب حکومت نے ایسے افراد کی نگرانی مائیکرو چپس کے ذریعے کرنے کے لیے ترکی سے ٹیکنالوجی لی تھی اور انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول کے سیکشن ای ڈبل ون میں شامل متعدد ایسے افراد کو کڑے پہنائے گئے ہیں تاکہ ان کی نقل حرکت کے بارے میں معلوم کیا جا سکے۔ان افراد کا سراغ لگانے کے لیے مقامی تھانوں، سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیںاہلکار کے مطابق جب پنجاب کے مختلف علاقوں میں رہنے والے ان افراد کو مائیکرو چپس کے تحت ا±ن کی نگرانی کے بارے میں معلوم ہوا تو ان میں سے چھ سو سے زائد افراد روپوش ہوگئے اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ان افراد کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ان افراد کی تلاش پر مامور ٹیموں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ا±ن کے اہلخانہ کے علاوہ ان افراد سے بھی رابطہ کر کے معلومات حاصل کریں جنھوں نے ان افراد کی ضمانت دی تھی کہ وہ متعلقہ تھانے کو اپنی نقل وحرکت کے بارے میں بتانے کے پابند ہوں گے۔اس کے علاوہ ا±ن جماعتوں کے قائدین سے بھی معلومات حاصل کی جائیں گی جن کے ساتھ ایسے افراد کی وابستگی ہے۔وزاتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق وفاقیدارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں ایسے افراد کے تعداد دو سو کے قریب ہے جنہیں اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ شہر سے باہر جانے کے لیے متعلقہ پولیس سٹیشن کو مطلع کریں گے تاہم ان میں سے بھی اکثریت کا ریکارڈ تھانوں میں موجود ہی نہیں کہ وہ کس وقت شہر سے باہر گئے۔ایسے افراد جنہیں انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے کہ ا±ن کی زیادہ تعداد صوبہ پنجاب کے وسطی شہر جھنگ اور فیصل آباد سے ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی ایسے افراد کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ ا±ن میں سے اکثریت کا تعلق مختلف مذہبی جماعتوں سے ہے۔اہلکار کے مطابق ایسے افراد جنہیں انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے کہ ا±ن کی زیادہ تعداد صوبہ پنجاب کے وسطی شہر جھنگ اور فیصل آباد سے ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی ایسے افراد کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔جن افراد کو انسداد دہشت گردی کے اس قانون کے تحت پابند بنایا گیا ہے ا±ن میں سے اکثریت کا تعلق مختلف مذہبی جماعتوں سے ہے۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ضلعی رابطہ افسر ہر تین ماہ کے بعد شیڈول فورتھ کے تحت رکھے گئے افراد کی فہرست کا جائزہ لینے کا پابند ہے کہ آیا یہ افراد کہیں سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں ہیں۔ضلعی رابطہ افسر خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں اس فہرست میں کمی یا اضافہ کرنے کا مجاز بھی ہے۔اہلکار کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت مائیکرو چپس کے ذریعے ایسے افراد کی نگرانی کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جانا ہے اور اس منصوبے کا آغاز پنجاب سے کیا گیا ہے تاہم پہلے مرحلے میں ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پر عمل درآمد میں مشکلات درپیش ہیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…