جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پشاور میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایس ایم ایس سروس کا آغاز

datetime 11  اپریل‬‮  2015 |

پشاور(نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ضلعی انتظامیہ نے پہلی مرتبہ عوامی شکایات کو حل کرنے کے لیے موبائل فون سے مختصر پیغامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔پشاور کے شہری اب ڈپٹی کمشنر کو براہ راست اپنی شکایات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔اگر کہیں گندگی پڑی ہے اور اس کی صفائی کا معقول انتظام نہیں ہے، روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متعین قیمتوں سے زیادہ وصول کی جا رہی ہیں، نکاسی آب کا مسئلہ ہے اور اس کے علاوہ اس طرح کے اگر کوئی اور مسائل ہوں تو اب شہری ایک مختصر پیغام یا ایس ایم ایس کے ذریعے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کر سکتے ہیں۔پولیس کے محکمے کے بعد اب ضلعی انتظامیہ نے پہلی مرتبہ پشاور میں یہ ایس ایم ایس سروس شروع کی ہے۔پشاور کے ڈپٹی کمشنر ریاض محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ تین روز میں انھیں 134 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 63 پر کارروائی کی گئی ہے اور 30 سے زیادہ شکایات حل کر دی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق اب تک ملنے والی شکایات صفائی، نکاسی آب اور مہنگائی سے متعلق ہیں۔ریاض محسود نے بتایا کہ پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن سے روز مرہ استعمال کی اشیا کی زیادہ قیمتیں وصول کرنے کی شکایات تھیں تو اندرون شہر سے صفائی اور نکاسی آب کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ڈی سی پی آٹھ تین تین تین نمبر رکھا گیا ہے اور اس سروس کا مقصد انتظامیہ اور عوام کے مابین رابطے کو بحال کرنا ہے۔اس سے پہلے پولیس کے محکمے میں آن لائن ایف آئی آر اور پولیس کے بارے میں شکایات کے لیے ایس ایم ایس سروس شروع کی جا چکی ہے۔تعلیم کے محکمے میں اساتذہ اور طالب علموں کی حاضری یقینی بنانے کے لیے موبائل فونز کے ذریعیمانیٹرنگ کا سلسلہ شروع کیاگیا تھا اور اب آج سے ہسپتالوں میں عملے، ادویات اور آلات کی فراہمی کے لیے آزاد مانیٹرنگ یونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔محکمہ صحت میں طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موبائل فون کا استعمال کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…