پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

چین پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل کرے گا،شاہدخاقان عباسی

datetime 10  اپریل‬‮  2015 |

 
اسلام آباد(نیوزڈیسک)امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چین ایران سے آنے والی قدرتی گیس کی پائپ لائن پاکستان کے اندر تعمیر کرے گا۔وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے دی وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام شروع ہے۔’ہم اسے بنا رہے ہیں۔ رواں ماہ پاکستان میں چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع دورے کے موقع پر اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔‘یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ایران کے ساتھ پائپ لائن منصوبے میں پیش رفت کی تو اس پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔تاہم 31 مارچ کو ایران کے ساتھ امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کے بعد صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابھی ایران پر عائد امریکی پابندیاں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ عبوری معاہدے کے بعد حتمی معاہدے کا انتظار ہے جس کے بارے میں توقع کی جارہی ہے کہ وہ جون 2015 میں میں عمل میں آئے گا۔اخبار کے مطابق پاکستان گذشتہ کئی ماہ سے چین کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر گفت و شنید کر رہا ہے۔ پاکستان اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے کم از کم ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کی رقم درکار ہو گئی۔
تہران کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی جانب 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔اگرچہ پاکستان نے ابھی اس پائپ لائن کو بنانے کا کام شروع نہیں کیا تاہم پاکستان نے گودار سے نواب شاہ تک چین کے تعاون سے گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے بات چیت شروع کر رکھی ہے تاکہ 700 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو ملک میں موجود گیس پائپ لائنوں کے نیٹ ورک سے جوڑا جا سکے۔اس گیس پائپ لائن منصوبہ ٹیک دس سال قبل سامنے آیا تھا۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق اس پائپ لائن کو بھارت تک جانا تھا تاہم تہران کا الزام ہے کہ 2009 میں امریکی دباو¿ کی وجہ سے بھارت اس منصوبے سے الگ ہوگیا تھا۔اسی سال مئی میں مسلم لیگ نون کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیرِ پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ایران کے ساتھ کاروبار کی وجہ سے اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خدشے کے باعث کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اس منصوبے میں رقم لگانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تعمیراتی کمپنیاں کام کرنے کو تیار نہیں اور ضروری سازوسامان فروخت کرنے والے ادارے بھی اس منصوبے کے لیے سامان فراہم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘
شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ان حالات کے باوجود حکومت پاکستان اس منصوبے کو مردہ تصور نہیں کرتی بلکہ اس میں سرمایہ کاری کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…