پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

جنوبی ایشیا میں فوجی عدم توازن، پاکستان کو تشویش

datetime 9  اپریل‬‮  2015 |

نیو یارک(نیوز ڈیسک) پاکستان نے جنوبی ایشیاء میں فوجی عدم توازن پرکچھ ممالک کی پالیسز پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے مختلف خطوں کے ممالک میں بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ اور روایتی ہتھیاروں کی فہرست میں اضافے کی جانب نشاندہی بھی کی۔اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے قوانین پرعدم توجہ کے باعث مختلف خطوں اور خاص طور پر جنوبی ایشیا میں شورش میں اضافہ ہورہا ہے۔ملیحہ لودھی نے تخفیف اسلحہ کے ایجنڈے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کا عمل رکنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک بڑی تعداد میں تیار کردہ اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی ان کے عدم پھیلاؤ کے جدید پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
انہوں ںے تخفیف اسلحہ پر موجود تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر جنرل اسمبلی کا چوتھا خصوصی اجلاس بلانے پر بھی زور دیا ہے۔پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ 50 ریاستوں کے سربراہان 2010ء4 کے بعد سے ہر دو سال میں نیکلئر سیکیورٹی سمٹ میں شرکت کرتے ہیں جو جوہری مواد کے صرف 15 فیصد سے نمٹتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے سربراہان کو جنرل اسمبلی کے خصوصی تخفیف اسلحہ کے سیشن میں بھی شرکت کرنی چاہیے اور دنیا میں موجود 17 ہزار جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بات چیت کا حصہ بنانا چاہیے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان بین الاقوامی طور پر سیکیورٹی اسلحے کی تخفیف پر بنائے گئے اصولوں پر ممالک کے درمیان برابری کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تشدد، جنگ اور ہلاکتوں کے لیے استعمال ہونے والے بڑے اور چھوٹے روایتی ہتھیار کی وجوہات سے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…