اسلام آباد(نیوزڈیسک) شاہ محمود قریشی کہتے ہیں جوڈیشل کمیشن کو دنوں کا پابند نہیں کیا جاسکتا، تحقیقات کیلئے جتنا وقت درکار ہوگا لے گا، تحقیقاتی کمیشن افتخار چوہدری سمیت کسی کو بھی طلب کر سکتا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی جوڈیشل کمیشن کے ناموں کے اعلان کے بعدمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری کاوشیں رنگ لے آئیں، کمیشن آئندہ شفاف انتخابات کی بنیاد رکھے گا، تحقیقات کیلئے دنوں کی پابندی نہیں لگا سکتے، کمیشن کو جتنا وقت درکار ہوگا لے گا، تحقیقات کیلئے کسی بھی ادارے کی معاونت لی جاسکتی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی صوابدید ہے جتنے چاہے حلقے کھولے، ایک نہیں بیسیوں حلقے کھول سکتا ہے، تحقیقاتی کمیشن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت کسی کو بھی طلب کرسکتا ہے، اگر انتخابات شفاف قرار نہ پائے تو اسمبلیاں تحلیل ہوں گی۔صدر کی جانب سے آرڈیننس پر دستخط کے بعد سپریم کورٹ نے چیف جسٹس جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیدیا، جس میں امیرہانی مسلم اور اعجاز افضل شامل ہیں۔
جوڈیشل کمیشن افتخار چوہدری سمیت کسی کو بھی طلب کرسکتا ہے،شاہ محمودقریشی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موسمی پرندے
-
مولانا طارق جمیل نے بچے سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا اور بچہ کون ہے؟ وضاحت سامنے آگئی
-
انمول پنکی کیسے گرفتار ہوئی؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
-
ڈاکٹر سارنگ ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت،مقتول کی اہلیہ مبینہ طور پر ملوث نکلی
-
پیٹرول کی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ خواجہ آصف نے بڑی خوشخبری سنا دی
-
عید الاضحیٰ کے دوران ملک بھر میں موسم کیسا رہےگا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
-
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کو اہم ہدایت جاری
-
آئی پی پیز کو دفن کر دیا ، اب بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ بیٹری میں محفوظ کر کے را...
-
پاکستان کی ایران جنگ بندی کوششیں، یو اے ای ناراض، پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی شروع، نیو یارک ٹائمز ک...
-
ایک میزائل، متعدد نشانے، بھارت کا’’مشن دیویاستر‘‘ کے تحت ایڈوانسڈ اگنی میزائل کا کامیاب تجربہ
-
ذوالحج 1447 ہجری کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ سپارکو نے ممکنہ تاریخ بتا دی
-
پی ڈی ایم اے پنجاب کا صوبہ بھر میں آندھی اور بارشوں کے متعلق الرٹ
-
مزید 191 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں سامنے آ گئیں



















































