اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاق نے تھر سے کوئلہ نکالنے کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنیوالی غیر ملکی کمپنیوں کیلئے پلانٹس، مشینری وآلات اور مخصوص گاڑیوں کی درآمد کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیدیا ۔ ایف بی آر کے مطابق یہ چھوٹ ان کمپنیوں کیلئے ہوگی جن کے پاس تھر کے ذخائرکے کسی بلاک کی لیز ہوگی جو کمپنیاں یہ پلانٹ، مشینری،آلات اورگاڑیاں درآمد کریں گی وہ ایف بی آر کی اجازت کے بغیر ان کو کسی مقامی کمپنی یا فرد کو فروخت نہیں کر سکیں گی اور اگر کوئی کمپنی ایسی فروخت میں ملوث پائی گئی تو اس سے وہ تمام ٹیکس و ڈیوٹیاں جو ان اشیاء کی کمرشل درآمد کے وقت رائج ہونگی وصول کی جائینگی تاہم ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ پلانٹس، مشینری ، آلات اور مخصوص پتھریلی زمین پر چلائی جانیوالی گاڑ یوں کو ایف بی آر کے علم میں لائے جانے کے بعد تھر میں کام کرنیوالی کانکنی کی دیگر کمپنیوں کے حوالے کیا جاسکے گا ،تھر میں کام کرنیوالی کمپنیوں کے سربراہان یا ان کے مجاز نمائندے ایف بی آر کو حلف پر مبنی تحریر فراہم کریں گے کہ جو اشیا ء وہ درآمد کر رہے ہیں وہ ان کے کانکنی کے منصوبے کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ڈیوٹی مراعات کے بعد اب تھر کے کوئلے کے ذخائر کو ترقی د یئے جانے کے امکانات بڑھ جائینگے
وفاقی حکومت نے تھر سے کوئلہ نکالنے کیلئے مشینری کی درآمد کو ڈیوٹی فری قرار دیدیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
-
سحری میں اہل خانہ کا اجتماع ،دوشیزہ نے باپ کو قتل کرڈالا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
پاکستان کی درخواست پر ایران نے سعودی عرب پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دے دی
-
سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ مریم نواز راشن کارڈ نہ رکھنے والے محنت کشوں کے لیے خوشخبری



















































