پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں کتنے پاکستانی فوجی موجود ہیں؟وزیر دفاع نے سب بتا دیا

datetime 2  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نےکہاہے کہ پاکستان یمن معاملے پر کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور کرنا بھی چاہتاہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے پاکستان دورہ میں کوشش کریں گے کہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کو ختم کروایا جاسکے،اولین کوشش یہی ہے کہ مسلم امہ میں تفرقہ نہ پڑے اور پرامن حل نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کو مایوس نہیں کرے گا اور اس معاملے پر بہترین طریقہ کار ہی اختیار کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ آنے والے دنوں میں پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں اس معاملے پر بات ہوگئی اور پاکستان امت مسلم کی اخوت کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ یمن کے معاملے پر پاکستان کھل کر اس کی مدد کرے لیکن اس کا حتمی فیصلہ پارلیمینٹ ہی کرے گی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے 1000 فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں تاہم وہ یمن کے ساتھ لڑ نہیں رہے۔ اس معاملے پر پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس پیر کے روز طلب کرلیا گیا ہے جہاں اس سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جمہوریت کی راہ پر گامزن ہے اور پارلیمینٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے ان خبروں کی تردید کہ حکومت پاکستانی فوج کو یمن بھیجنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کھل کر اس کی مدد کرے اور وہ اس کا اظہار بھی کئی بار کر چکا ہے تاہم فوج کو بھیجنے یا نہ بھیجنے کافیصلہ پارلیمینٹ ہی کرے گی۔ ایرانی سفیر کی پاکستان آمد سے متعلق سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور کرنا بھی چاہتے ہیں اور اولین کوشش یہی ہے کہ مسلم امہ میں تفرقہ نہ پڑے اور پرامن حل نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کو مایوس نہیں کرے گا اور اس معاملے پر بہترین طریقہ کار ہی اختیار کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…