اسلام آباد(نیوزڈیسک)دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے تحت ملک بھر میں کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کر دی گئی جس کے مطابق اب تک مختلف الزامات کے تحت 32 ہزار 347 افراد کو گرفتار کیا گیا۔وزیر اعظم کو ارسال کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی پنجاب میں 14 ہزار 791، سندھ میں 5 ہزار 517، خیبر پختونخوا میں 6 ہزار 461، بلوچستان میں 84، اسلام آباد میں 405، آزاد کشمیر میں ایک ہزار 394، گلگت بلتستان میں 83 اور فاٹا میں 91 کارروائیوں میں مختلف الزامات کے تحت 32 ہزار 347 افراد کو گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 61 مجرمان کو پھانسی دی گئی جن میں سے 47 کو پنجاب، 11 کو سندھ، ایک کو خیبرپختونخوا اور 2 مجرمان کو آزاد کشمیرمیں تختہ دار پر لٹکایا گیا، اشتعال انگیز تقاریر اور مواد کی تشہیر پر مجموعی طور پر 887 مقدمات درج کئے گئے جب کہ وفاقی تحقیقی ادارے نے حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقم کی ترسیل پر 64 مقدمات درج کئے اور 83 افراد کو گرفتار کر کے 10 کروڑ 17 لاکھ روپے برآمد کئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تمام کارروائیوں کے دوران 18 ہزار 855 افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجا گیا جب کہ 3 لاکھ 54 ہزار 672 کا اندراج کیا گیا۔
قومی لائحہ عمل کے تحت مختلف جرائم میں ملوث 32 ہزار سے زائد افراد گرفتار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
-
سحری میں اہل خانہ کا اجتماع ،دوشیزہ نے باپ کو قتل کرڈالا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
پاکستان کی درخواست پر ایران نے سعودی عرب پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دے دی
-
سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ مریم نواز راشن کارڈ نہ رکھنے والے محنت کشوں کے لیے خوشخبری



















































