جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

بھتے کی پرچیاں ملنے پر تاجروں نے احتجاجاً دکانیں بند کردیں

datetime 25  مارچ‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(نیوز ڈیسک)ایم اے جناح روڈ کے تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملنے اور رقوم کے مطالبے کے لیے اندرون ملک سے فون کالز ا نے پر مشتعل دکانداروں نے احتجاجاً دکانیں بند کر کے احتجاج کیا، مظاہرین نے پتھراو کر کے ٹریفک معطل کرا دیا اور علاقے میں رینجرز کی نفری تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق ا رام باغ کے علاقے ایم اے جناح روڈ ڈاو میڈیکل سگنل کے قریب تاجروں نے گاڑیوں پر پتھراو کر کے ٹریفک معطل کرا دیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی ، ایم اے جناح روڈ لائٹ ہاؤس کے قریب قائم اسپورٹس دیگر دکانداروں اور تاجر کو بھتے کی پرچیاں ملیں جبکہ کوئٹہ ، پنجاب اور اندرون ملک کے دیگر شہروں سے بھتے خوروں کی جانب سے فون کالز کر کے2لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا گیا، رقوم نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ایک دکاندار نے بتایا کہ پرچیوں اور فون کالز کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس نے دکانداروں کو تحفظ فراہم کرنے سے ٹال مٹول شروع کردی جس پر تمام دکانداروں نے ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا، ایسوسی ایشن کے ممبران نے دکانیں بند کرا کر ایم اے جنا ح روڈ بلاک کردیا اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج شروع کردیا۔احتجاج کے باعث ایم اے جناح روڈ ڈینسو ہال سے ٹاور تک بدترین ٹریفک جام ہوگیا، مشتعل دکانداروں نے الزام عائد کیا کہ تین روز سے جناح اسپورٹس اور دیگر چار دکانداروں کو فون پر نامعلوم افراد دھمکیاں دیں ، بھتہ خور کبھی پنجابی اور کبھی پشتو زبان میں بات کرتے ہیں، مظاہرین کا کہنا تھا کہ ا?ئی جی سندھ کو تاجروں سے بھتہ ختم کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے کیونکہ لی مارکیٹ، کھجور بازار، جوڑیا بازار سمیت اولڈ سٹی ایریا کی دیگر مارکیٹوں سے باقاعدگی سے بھتہ وصولی جاری ہے جس کے بارے میں علاقہ پولیس بھی جانتی ہے، تاجروں کے احتجاج کی اطلاع پر پولیس اور رینجرز موقع پر پہنچ گئی۔
پولیس افسران نے مشتعل تاجروں سے بات چیت کی اور انھیں یقین دہانی کرائی کے پولیس مارکیٹ کے لیے پولیس اہلکاروں کو تعینات کریگی جو تاجروں کو تحفظ فراہم کریگی تاہم مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انھیں پولیس پر بھروسہ نہیں لہذا مارکیٹ میں رینجرز کی نفری تعینات کی جائے پولیس افسر کی یقین دہانی پر دکاندار منتشر ہوگئے اور دکانیں دوبارہ کھول دیں، پولیس نے ایک گھنٹے کی جدو جہد کے بعد ٹریفک کی روانی بحال کرادی۔ایس ایچ او ا رام باغ عالم ڈہری نے بتایا کہ متاثرہ دکاندار کو تھانے طلب کیا ہے کہ وہ پولیس کو وہ نمبر دیں جس نمبر سے انھیں بھتے کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں ، دکانداروں نے پولیس کو بتایا کہ وہ مارکیٹ بند ہونے کے بعد رات میں تھانے ا کر مقدمہ درج کرائیں گے، واضح رہے تاجروں نے ایم اے جناح روڈ پر دکانوں کے باہر پوسٹر چسپاں کیے ہوئے ہیں جس میں وہ تمام موبائل فون نمبر لکھے ہیں جس سے ان کو بھتہ کے لیے فون کالز ا?تی ہیں۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…