جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پشاور میں تاوان کیلئے ڈاکٹروں کا اغوا معمول ہے

datetime 24  مارچ‬‮  2015 |

پشاور: (نیوز ڈیسک ) پشاور میں ڈاکٹروں کے لیے اے کے فورٹی سیون کی نی اہمیت ہے۔ ڈاکٹرزاسپتال جانے سے پہلے کاروں میں ہتھیار رکھنا نہیں بھولتے۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق پشاور میں تاوان کے بدلے ڈاکٹروں کا اغوا معمول ہے۔ 100 فیصد سینئر ڈاکٹر اغوا اور قتل سے بچنے کے لیے طالبان کو باقاعدہ بھتہ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منگل باغ میں ایک سینئر ڈاکٹر 2500 ڈالر کے قریب بھتہ دے چکا ہے۔ بھتہ دینے والے ڈاکٹرز کے مطابق انہیں زندہ رہنے کے لیے طالبان کو خوش کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات انہیں قبائلی علاقوں میں طالبان کمانڈرز کے علاج کے لیے بھی لے جایا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی ڈاکٹر ایسوس ایشن کے مطابق 3 سالوں میں پشاور سے ایک درجن ڈاکٹروں کو قتل جبکہ 30 کو اغوا کیا گیا 3 ہزار حالات سے تنگ آ کر دوسرے شہروں میں منتقل ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں بھی 14 ماہ کے دوران 20 ڈاکٹروں کو قتل جبکہ 10 کو اغوا کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…