بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

بلوچستان پاکستان کا مستقبل اور اس کے نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں، کور کمانڈر سدرن کمانڈ

datetime 22  مارچ‬‮  2015 |

کوئٹہ(نیوزڈیسک)کور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ نوجوان اپنی ہی چیز کے لئے مت لڑیں جو قربانیاں ہم پہلے دے چکے ہیں اب تک ان کے زخمی دھندلے نہیں ہوئے اب مزید زخم نہ لگائیں۔کوئٹہ میں بلوچستان اسپورٹس فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کور کمانڈر سدرن کمانڈ نے کہا کہ وطن عزیز میں ہم سب برابر ہیں، ہمیں رنگ، نسل، فرقہ واریت اور اس سے نکلی دہشت گردی اور تفریق کو ختم کرنا ہے، ہم اپنی محبتوں سے اس تفریق کو ختم کردیں گے. ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار چھوڑ کر امن کا راستہ اختیار کرنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، اور قوم کے ان بیٹوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے طے کرلیا ہے کہ وہ خون کی ہولی نہیں کھیلیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کی پہچان ہیں، پاکستان دل ہے تو بلوچستان کے عوام دل کی دھڑکن ہیں، یہ پاکستان اور اس کا چپہ چپہ آپ کا ہے، آپ کس آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں آپ تو پہلے ہی سے آزاد ہیں، آپ اپنی ہی چیز کے لئے مت لڑیں، جنہیں آپ مار رہے ہیں وہ بھی آپ کے ہیں، جو قربانیاں ہم پہلے دے چکے ہیں اب تک ان کے زخمی دھندلے نہیں ہوئے، مزید زخم نہ لگائیں، اس میں غموں اور سسکیوں کے سوا کچھ نہیں، تعلیم حاصل کریں اور اپنے آپ کو بہتر انسان بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…