منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

اسی بات کا انتظار تھا کہ موقع ملے اور میچ جتواﺅں

datetime 19  مارچ‬‮  2015 |

ایڈیلیڈ (نیوز ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز اور وکٹ کیپر سرفراز احمد نے کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور ٹیم کو جتوانے کی کوشش کریں گے ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ اور آئرلینڈ کے خلاف میچ میں جس طرح ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے اس سے مورال انتہائی بلند ہے اور اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دونوں میچز میں باﺅلرز، بیٹسمین اور فیلڈرز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور امید ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بھی اسی طرح کی پرفارمنس دیکھنے میں آئے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مصباح الحق کا یہ کہنا کہ میچ میں دباﺅ آسٹریلیا کی ٹیم پر ہو گا، کتنا درست ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ آسٹریلیا کو بھلے ہی ہوم گراﺅنڈ کا فائدہ حاصل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہوم کراﺅڈ کا پریشر بھی انہی پر ہو گا اور جس طرح قومی ٹیم نے دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف شاندار فتح حاصل کی تھی وہ بھی آسٹریلیا پر دباﺅ میں اضافے کا سبب بنے گی۔ قومی ٹیم کی پوری کوشش ہو گی کہ آسٹریلیا کو ٹف ٹائم دیا جائے تاہم میچ کے روز جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیتے گی۔ آئرلینڈ کے خلاف 90 کا ہندسہ عبور کرنے کے بعد دباﺅ سے متعلق سوال کے جواب میں سرفراز احمد نے کہا کہ وہ اس وقت نروس ہو گئے تھے تاہم امید تھی کہ سنچری مکمل کر لوں گا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے جس طرح عمر اکمل نے ان کا ساتھ دیا وہ قابل ستائش ہے اور وہ اس پر عمر اکمل کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی میچوں میں ٹیم میں شامل نہ کرنے پر انہیں کوئی افسوس نہیں کیونکہ ٹیم مینجمنٹ نے وہی ٹیم کھلائی جو بہترین تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ” میں اسی انتظار میں تھا کہ جب بھی موقع ملا اپنی پرفارمنس سے ٹیم کو جتوانے کی بھرپور کوشش کروں گا “۔ صحافی نے جب ان سے یہ سوال پوچھا کہ ”سرفراز کوارٹر فائنل میں دھوکہ تو نہیں دے گا“ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تو مزاحیہ فقرہ ہے، اس لئے وہ اس سے بالاتر ہو کر سوچتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہم مثبت سوچ رہے ہیں اور ٹیم بھرپور تیاری کر رہی ہے، ہم کوارٹر فائنل جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے“۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…