اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئل گیس ریگولیٹری اتھارٹی ( اوگرا ) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان کو پٹرولیم بحران کے دوران حکومت کی جانب سے تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیجنے کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سع سعید احمد خان کی بطور چیئرمین اوگرا کے بحالی کے احکامات جاری کر دیئے ۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کسی بھی آفیسر کو اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جبری رخصت پر نہیں بھیجا جا سکتا بغیر تحقیقات کے ان کو عہدہ سے نہیں ہٹھایا جا سکتا ۔ منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نور الحق این قریشی کی عدالت نے سابق چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کو تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیجنے کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے دیا ہے ۔ منگل کے روز عدالت عالیہ نے سابق چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کیس کو محفو ظ کیا گیا فیصلہ سنایا ۔ گزشتہ ہفتہ اسلام ہائی کورٹ میں سعید احمد خان چیئرمین اوگرا کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیئے تھے کہ پٹرولیم مصنوعات کے حالیہ بحران کے دوران حکومت نے اوگرا کے چیژرمین سعید احمد خان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا اور عہدہ سے بھی ہٹانے کے احکامات جاری کر دیئے ۔انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کا بحران کا ذمہ دار صرف چیئرمین اوگرا کو نہیں ہٹایا جا سکتا بلکہ اس میں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور دیگر متعلقہ اداروں کے افراد بھی شامل ہیں کسی ایک آفیسر کو ٹارگٹ کر کے بغیر تحقیقات کے جبری رخصت پر نہیں بھیجا جا سکتا اور نہ عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کئے جا سکتے ہیں انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات بحران کے دوران وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر کیبنٹ ڈویژن چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کو عہدہ سے ہٹانے تین ماہ کے جبری رخصت بھیجنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کے وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں یہ بھی دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے پک ایڈ چوائش کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے سعید احمد خان کے خلاف کارروائی کی اور پٹرولیم بحران کا ذمہ دار ان کو ٹھہرایا بلکہ اوگرا کے دیگر افراد کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں کی گئی ۔ جس پر عدالت نے عاصمہ جہانگیر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔ منگل کے روز جسٹس نورالحق این قریشی کی عدالت سے جاری کئے گئے عدالتی فیصلے میں چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کو تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیجنے اور عہدہ سے ہٹانے کے لئے جاری کئے گئے کیبنٹ ڈویژن کے نوٹیفیکیشن کو معطل کرتے ہوئے سعید احمد خان کو چیئرمین اوگرا بحال کر دیا درخواست میں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل وفاق کیبنٹ ڈویژن اوگرا اور ایکٹنگ قائم چیئرمین اوگرا کو فریق بنایا گیا تھا ۔
سابق چیئرمین اوگرا سعید احمد کوجبری رخصت پر بھیجنے کا نوٹیفیکیشن کالعدم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)
-
عید میلاد النبیؐ کی چھٹی کس دن ہوگی؟ بڑی خبر آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کردی
-
ایجوکیشن اتھارٹی کاموسمِ گرما کی تعطیلات بارے نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت حکم نامہ جاری
-
بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اطلاق کن صارفین پرہوگا؟
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارت خزانہ نے نئی وضاحت جاری کردی
-
سولر صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
نیٹ بلنگ قوانین کے نفاذ کے بعد پاکستانیوں نے متبادل حل نکال لیا
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دوسری شادی کر لی؟
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور آزاد کشمیر میں بارشوں کی پیشگوئی، ادارے الرٹ
-
سعودی عرب کے ورک ویزے کے خواہشمند پاکستانی ہوشیار ہوجائیں !
-
پنجاب حکومت نے گندم کی ریلیز پرائس مقرر کر دی



















































