جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

نا بالغ شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ دوبارہ جاری

datetime 12  مارچ‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 14 سال کی عمر میں بچے کے اغوا اور پھر قتل کے جرم میں موت کی سزا پانے والے شفقت حسین کے بلیک وارنٹ 19 مارچ کے لیے جاری کر دیے ہیں۔یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے موت کی سزا پانے والے قیدی شفقت حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا تھا۔اس سے پہلے شفقت حسین کو 14 جنوری کو سزائے موت دی جانی تھی۔ سزا پر عمل درآمد کے خلاف درخواست سماجی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی جانب سے درخواست دائر کی گئی۔تنظیم کا کہنا تھا کہ 14 سال کی عمر میں بچے کے اغوا اور پھر قتل کے الزام میں سزا پانے والے شفقت حسین پر پولیس نے تشدد کر کے اعترافی بیان حاصل کیا۔میڈیا پر یہ کیس آنے کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پانچ جنوری کو شفقت حسین کی سزائے موت روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک تحقیقاتی ٹیم اس مقدمے کی مزید تفتیش کرے گی۔اطلاعات کے مطابق کراچی سینٹرل جیل کے حکام نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے بدھ کے روز درخواست کی تھی کہ شفقت حسین کے بلیک وارنٹ ازسرِ نو جاری کیے جائیں جس پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نمبر تین کے جج سلیم رضا بلوچ نے جمعرات کو بلیک وارنٹ جاری کر دیے۔غربت کی وجہ سے شفقت کے اہلِ خانہ گذشتہ دس برس میں صرف دو بار اس سے ملنے کراچی جا سکے۔جسٹس پروجیکٹ پاکستان نامی نجی ادارے کی سارہ بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے وفاقی وزارتِ داخلہ اور سندھ کی صوبائی حکومت کو اس ضمن میں خطوط لکھے ہیں اور وہ کوشش کر رہی ہیں کہ شفقت حسین کی پھانسی روکی جائے۔انھوں نے بتایا کہ وزیرِ داخلہ نے متعلقہ حکام کو اس مقدمے کی تحقیقات کرنے کا کہاتھا مگر کسی قسم کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی ہیں اور نہ ہی ان سے کسی نے رابطہ کیا ہے۔پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 143 افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…