اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دسمبر میں ہر صورت ملک واپس آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں وطن واپسی پر گرفتاری، قید یا جان کے خطرے کا سامنا بھی کرنا پڑا تو وہ اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو ای میل کے ذریعے دیے گئے جواب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ان کی موت بھی لکھی ہو تو وہ اپنے لوگوں کے درمیان اور اپنے وطن کی سرزمین پر آخری سانس لینا پسند کریں گی۔ تاہم انہوں نے بھارت سے بنگلہ دیش واپسی کے طریقہ کار سے متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی۔شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد اقتدار سے محروم ہوگئی تھیں، جس کے بعد وہ بھارت منتقل ہوگئی تھیں۔ ان کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس تحریک کے دوران تقریباً 1400 افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے۔بعد ازاں 2025 میں بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے مظاہرین کے خلاف کارروائی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر شیخ حسینہ کو ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ سابق وزیراعظم نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی قانونی حیثیت پر اعتراضات اٹھائے اور الزامات میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔شیخ حسینہ کا مؤقف ہے کہ بنگلہ دیش واپس جانے کی صورت میں انہیں گرفتار کرکے قید کیا جاسکتا ہے،
جبکہ تشدد اور قتل کا خطرہ بھی موجود ہے۔ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری انتظامیہ قائم کی گئی تھی۔ بنگلہ دیشی حکومت متعدد بار بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کرچکی ہے، تاہم نئی دہلی نے تاحال انہیں بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کیا۔بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر کے مطابق ڈھاکا، بھارت کے ساتھ موجود حوالگی کے معاہدے کے تحت سابق وزیراعظم کو واپس لانے کا خواہاں ہے۔دوسری جانب شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پابندی عائد ہے اور اسے عام انتخابات میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق فروری میں منعقدہ انتخابات کے نتیجے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمٰن نے کامیابی حاصل کرکے حکومت سنبھالی۔سابق وزیراعظم نے موجودہ حکومت پر عوامی لیگ کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگست 2024 کے بعد سے ان کی جماعت کے کم از کم 20 ہزار کارکن ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا یا انہیں روپوشی اختیار کرنا پڑی۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔شیخ حسینہ کی جانب سے دسمبر میں وطن واپسی کے اعلان کو بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال کے علاوہ بھارت اور بنگلہ دیش کے باہمی سفارتی تعلقات کے تناظر میں بھی اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔



















































