اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر کا عہدہ نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ انہوں نے کسی رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ مذکورہ سیاستدان ماضی میں طویل عرصے تک اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتے رہے ہیں۔
لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ بعض سیاستدان ماضی میں اپنی جماعت کے ہوائی سفر کے ٹکٹوں کے انتظام کے لیے بھی اسٹیبلشمنٹ پر انحصار کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے رہنماؤں کو دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے ماضی کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے سیاسی گفتگو میں شائستگی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری سیاست کا حصہ ہے، تاہم الزامات اور نامناسب زبان کے بجائے حقائق اور ٹھوس دلائل کی بنیاد پر بات کی جانی چاہیے۔
سابق فاٹا کے وسائل کا معاملہ بھی زیر بحث
محسن نقوی نے سابق فاٹا کے اضلاع کے وسائل سے متعلق سیاسی رہنماؤں کے بیانات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بعض سیاستدان ان علاقوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن ماضی میں جب ان اضلاع کو ان کے جائز وسائل نہیں مل رہے تھے تو اس وقت آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی؟
انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے عوام کے حقوق اور وسائل کی فراہمی کو سیاسی مفادات سے الگ رکھنا ضروری ہے، تاکہ ان علاقوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جاسکے۔
خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کی ضرورت ہے، وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق خیبرپختونخوا اس وقت سیکیورٹی کے سنگین مسائل اور دہشت گردی کے چیلنجز سے دوچار ہے، جس کے پیش نظر سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی بڑھانے اور انتشار کو ہوا دینے کے بجائے امن و امان کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کریں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے موجودہ حالات میں سیاسی محاذ آرائی کے بجائے باہمی اشتراک، امن اور استحک



















































