اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آنجہانی بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے اداکارہ تنوشری دتہ کے والد کے انتقال پر دیے گئے متنازع بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس معاملے کو دوبارہ زیر بحث لایا جا رہا ہے،
وہ قانونی طور پر پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور اب اسے مزید اچھالنے سے گریز کرنا چاہیے۔تنوشری دتہ نے 2009 میں فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ یہ معاملہ 2018 میں می ٹو مہم کے دوران دوبارہ سامنے آیا، جس کے بعد اداکار کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔ تاہم نانا پاٹیکر نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔اس کیس کو 2019 میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر بند کر دیا گیا تھا، جبکہ 2025 میں ممبئی کی اندھیری مجسٹریٹ عدالت نے قانونی مدت گزر جانے کے باعث نانا پاٹیکر کے خلاف فوجداری کارروائی ختم کر دی تھی۔حال ہی میں نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد تنوشری دتہ نے ایک متنازع تبصرہ کرتے ہوئے ان کی موت کو ’شیطان کی موت‘ قرار دیا تھا۔ اب اداکار کے بیٹے ملہار نے اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے، تاہم انہوں نے اپنے بیان میں تنوشری دتہ کا نام نہیں لیا۔ملہار کا کہنا تھا کہ وہ کسی کا نام لیے بغیر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جس مقدمے کو بار بار موضوع بنایا جا رہا ہے، وہ پہلے ہی اپنے قانونی انجام کو پہنچ چکا ہے۔
ان کے مطابق عدالتی کارروائی ختم ہونے کے باوجود بعض لوگ اس معاملے پر گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے افراد کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کرنا چاہتے اور ان کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ ملہار کے بقول، ’’میں ایسے لوگوں کو کچھ نہیں کہوں گا، خدا ان کا بھلا کرے۔‘‘واضح رہے کہ نانا پاٹیکر 8 اکتوبر کو بھارتی ریاست گوا میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ بھارتی سنیما میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔



















































