اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ترکیے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں حوثی فورسز کے خلاف فضائی کارروائی کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔
پاکستانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ممکنہ حملے جلد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کارروائی کے فوراً بعد اس حوالے سے باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق زیرِ غور ممکنہ فوجی آپریشن کا مقصد یمن کے صوبہ صعدہ سمیت مختلف علاقوں میں حوثی فورسز کو نشانہ بنانا اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے حوثیوں کے خلاف عملی کارروائی کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی جولائی میں ختم ہونے کے بعد حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا، جس سے سعودی تیل کی برآمدات کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال نے بھی سعودی عرب کی تیل برآمدات کو متاثر کیا ہے۔
گزشتہ روز حوثیوں، جنہیں انصاراللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سعودی عرب کے مختلف شہروں اور توانائی کی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق ابہا، جازان، نجران اور خمیس مشیط سمیت متعدد مقامات متاثر ہوئے، جبکہ حملوں میں 73 افراد کے زخمی ہونے اور اہم توانائی تنصیبات کی سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ان حملوں کے جواب میں سعودی عرب نے منگل کے روز یمن میں حوثی ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے۔ حوثی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی کارروائی کے نتیجے میں الجوف میں جانی نقصان ہوا، تاہم ریاض کی جانب سے ان حملوں یا ان میں ہونے والے نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ اگر پاکستانی حکام سعودی درخواست پر کارروائی کی منظوری دیتے ہیں تو یمن میں حوثیوں کے خلاف پاکستان کی براہِ راست عسکری شمولیت خطے کی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔



















































