ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخواہ اسمبلی نے ہری پور اور ایبٹ آباد کو اسلام آباد میں شامل کرنے کی تجویز کی مخالفت کردی

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی نے ہری پور، ایبٹ آباد یا صوبے کے کسی بھی دوسرے ضلع کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا حصہ بنانے سے متعلق کسی بھی تجویز یا منصوبے کو متفقہ طور پر مسترد کردیا ہے۔

ایوان نے صوبے کی جغرافیائی سالمیت، آئینی حیثیت اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ایسی تمام تجاویز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔چیف وہپ اکبر ایوب کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہری پور اور ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع صوبے کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں کسی بھی صورت صوبے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ قرارداد کے مطابق صوبائی حدود میں انتظامی، سیاسی یا معاشی بنیادوں پر تبدیلی صوبے کے عوام کے آئینی حقوق اور خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہوگی۔قرارداد میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے آبی ذخائر، پن بجلی کے منصوبے، معدنیات، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل پر صوبے اور اس کے عوام کا آئینی حق ہے۔

ان وسائل پر براہِ راست یا بالواسطہ اختیار حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ایوان نے اپنے مؤقف میں کہا کہ پاکستان کی مضبوطی وفاقی نظام، آئین کی بالادستی اور تمام صوبوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔ کسی صوبے کی حدود میں سیاسی مفادات یا ذاتی خواہشات کی بنیاد پر یکطرفہ تبدیلی قومی یکجہتی اور بین الصوبائی اعتماد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہری پور، ایبٹ آباد یا خیبرپختونخوا کے کسی بھی دوسرے ضلع کو اسلام آباد میں شامل کرنے سے متعلق تمام تجاویز فوری طور پر ختم کی جائیں اور صوبے کی آئینی و جغرافیائی حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔خیبرپختونخوا اسمبلی نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام، منتخب نمائندے اور صوبائی حکومت اپنے جغرافیائی تشخص، آئینی حقوق، صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آئینی، جمہوری اور پُرامن ذرائع استعمال کریں گے۔

ایوان نے سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، وکلا، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ صوبے کے حقوق کے تحفظ کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔قرارداد میں وفاقی حکومت کو یہ بھی پیغام دیا گیا کہ صوبے کی حدود میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسا اقدام خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ناقابل قبول ہوگا اور اس کے نتیجے میں قومی اتحاد، بین الصوبائی ہم آہنگی اور وفاقی نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…