پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخواہ اسمبلی نے ہری پور اور ایبٹ آباد کو اسلام آباد میں شامل کرنے کی تجویز کی مخالفت کردی

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی نے ہری پور، ایبٹ آباد یا صوبے کے کسی بھی دوسرے ضلع کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا حصہ بنانے سے متعلق کسی بھی تجویز یا منصوبے کو متفقہ طور پر مسترد کردیا ہے۔

ایوان نے صوبے کی جغرافیائی سالمیت، آئینی حیثیت اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ایسی تمام تجاویز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔چیف وہپ اکبر ایوب کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہری پور اور ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع صوبے کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں کسی بھی صورت صوبے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ قرارداد کے مطابق صوبائی حدود میں انتظامی، سیاسی یا معاشی بنیادوں پر تبدیلی صوبے کے عوام کے آئینی حقوق اور خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہوگی۔قرارداد میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے آبی ذخائر، پن بجلی کے منصوبے، معدنیات، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل پر صوبے اور اس کے عوام کا آئینی حق ہے۔

ان وسائل پر براہِ راست یا بالواسطہ اختیار حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ایوان نے اپنے مؤقف میں کہا کہ پاکستان کی مضبوطی وفاقی نظام، آئین کی بالادستی اور تمام صوبوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔ کسی صوبے کی حدود میں سیاسی مفادات یا ذاتی خواہشات کی بنیاد پر یکطرفہ تبدیلی قومی یکجہتی اور بین الصوبائی اعتماد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہری پور، ایبٹ آباد یا خیبرپختونخوا کے کسی بھی دوسرے ضلع کو اسلام آباد میں شامل کرنے سے متعلق تمام تجاویز فوری طور پر ختم کی جائیں اور صوبے کی آئینی و جغرافیائی حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔خیبرپختونخوا اسمبلی نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام، منتخب نمائندے اور صوبائی حکومت اپنے جغرافیائی تشخص، آئینی حقوق، صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آئینی، جمہوری اور پُرامن ذرائع استعمال کریں گے۔

ایوان نے سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، وکلا، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ صوبے کے حقوق کے تحفظ کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔قرارداد میں وفاقی حکومت کو یہ بھی پیغام دیا گیا کہ صوبے کی حدود میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسا اقدام خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ناقابل قبول ہوگا اور اس کے نتیجے میں قومی اتحاد، بین الصوبائی ہم آہنگی اور وفاقی نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…