مظفر آباد (این این آئی)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور کشمیر کا رشتہ محض انتخابی نہیں ،تین نسلوں پر محیط تاریخی اور نظریاتی تعلق ہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید بینظیر بھٹو تک ہم نے ہر فورم پر کشمیر کے مقدمے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، اسی طرح پاکستان کے اندر بھی تین نسلوں سے ہم مزدور، کسان، محنت کش اور پسماندہ طبقات کی آواز بنے ہیں، پیپلز پارٹی کی سیاست کا محور ہمیشہ عوام رہے ہیں، جمہوریت کا استحکام، انسانی حقوق کا تحفظ اور عوامی حقوق کا حصول ہماری جماعت کا تاریخی ورثہ اور شناخت ہے۔ آج بھی جب کشمیر کے عوام مشکلات کا شکار ہیں، جب ان سے ان کے بنیادی حقوق چھینے جا رہے ہیں، تو پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی نمائندگی کر رہی ہے،انشااللہ 2 اگست کو عوامی مینڈیٹ تیر کے نشان پر مہر لگائے گا ،یہ کامیابی صرف ایک سیاسی فتح نہیں ہوگی بلکہ یہ عوام کی جیت، جمہوریت کی جیت اور کشمیر کے عوام کے حقوق کی جیت ہوگی۔ مظفرآباد میں مبشر منیر اعوان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین کی پوری سیاسی تاریخ ہی دھاندلی، سازشوں اور جھوٹے الزامات پر کھڑی ہے۔
یہ کبھی بھی عوام کے حقیقی ووٹ اور مینڈیٹ سے اقتدار میں نہیں آئے۔ جب بھی یہ وزیراعظم یا وزیراعلی کے منصب پر فائز ہوئے تو اس کی وجہ عوامی اعتماد، عوامی خدمت یا کارکردگی نہیں تھی بلکہ منظم دھاندلی، انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری اور سازش تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی نے جب بھی اقتدار سنبھالا تو وہ عوام کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور ووٹ کی طاقت کے ذریعے سنبھالا ہمیں اقتدار کبھی تحفے میں یا پلیٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا اور اقتدار کو عوامی خدمت کے لیے استعمال کیا، جبکہ ہمارے مخالفین نے اقتدار کو ذاتی مفادات اور دھاندلی کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ جو نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار ہیں، انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ جس طرح وہ ماضی میں ووٹ چوری کر کے اقتدار میں آتے رہے ہیں، اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی انہیں دھاندلی کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کشمیر کے عوام کسی دبا میں آنے والے نہیں ہیں۔ کشمیری عوام کی تاریخ ہی بہادری اور مزاحمت کی ہے۔ انہوں نے ہر دور میں ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ یہ نہ کسی کے سامنے جھکتے ہیں اور نہ کسی کی دھمکیوں سے ڈرتے ہیں۔ کشمیر کے عوام اپنے ووٹ کی قدر جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ووٹ ان کی امانت ہے اور وہ کسی کو بھی اس امانت پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ 2 اگست کو کشمیر کے عوام اپنے ووٹ سے یہ پیغام دیں گے کہ کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیر کی عوام کر سکتی ہے، کوئی بیرونی طاقت یا دھاندلی کا نظام نہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین کی پوری تاریخ دھاندلی، سازشوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے عبارت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کی جماعت کا قائد پہلی بار پنجاب کا وزیراعلی بنا تو وہ عوام کے مینڈیٹ سے نہیں بلکہ آئی جے آئی کے قیام اور منظم دھاندلی کی پیداوار تھا۔ جب وہ پہلی بار ملک کے وزیراعظم بنے تو یہ بھی عوامی حمایت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اصغر خان کیس کے انکشافات نے ثابت کیا کہ کس طرح اس نے انتخابی نتائج کو خریدا تھا۔ جب وہ تیسری بار وزیراعظم بنے تو وہ بھی شفاف الیکشن سے نہیں بلکہ آر او الیکشن اور راتوں رات نتائج تبدیل کرنے کی وجہ سے بنے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج بھی اگر کوئی وزیراعظم یا وزیراعلی کے عہدے پر فائز ہے تو اس کی وجہ عوامی کارکردگی، عوامی خدمت یا عوام کا ووٹ نہیں ہے۔
آج کا اقتدار بھی فارم 47 کی پیداوار ہے، عوام نے تو انکو ووٹ ہی نہیں دیا۔ جو لوگ نسل در نسل دھاندلی کرتے آئے ہیں، جو ہر الیکشن میں عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کے ماہر ہیں، وہ کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دھاندلی نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جب بھی اقتدار سنبھالا تو وہ قربانیوں اور عوام کی ووٹ کی طاقت سے سنبھالا۔ ہم نے ہمیشہ دھاندلی کے خلاف جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی کشمیر سمیت ملک کے ہر کونے میں عوام کے ووٹ کا دفاع کریں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرپور میں منصوبہ بند دھاندلی کے ذریعے غلط نتائج جاری کیے گئے اور اب انکی کوشش ہے کہ مظفرآباد میں بھی سیاسی دبا ڈال کر دھاندلی کے ذریعے ووٹ حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور عوام کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی حکومت عوام کے پاس اپنی کارکردگی لے کر نہیں آئی۔ عوام ان سے نفرت کرتے ہیں اور انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے یہ لوگ طاقت اور دبا کے ذریعے راستہ نکالنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ آپ سے ووٹ کی درخواست نہیں کر رہے بلکہ آپ کے حق پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے مینڈیٹ کو چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ وہی پرانی سوچ ہے جو ہمیشہ ووٹ کی عزت کے بجائے ووٹ چوری پر یقین رکھتی ہے۔ ن لیگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ مظفرآباد ہے، یہ سری نگر نہیں ہے۔
یہاں کے عوام باشعور اور غیرت مند ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنا جانتے ہیں۔ انشااللہ مظفرآباد کے عوام اپنی سیاسی بصیرت، حوصلے اور اتحاد سے ان کی دھاندلی کی سازش کو ناکام بنا دیں گے اور اپنے ووٹ سے یہ ثابت کر دیں گے کہ کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیر کی عوام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیا کوئی اس تلخ حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ جاوید بڈھانوی کی سیٹ پر ہمارے کارکن کو شہید کر کے ان کی جیت کو سازش کے ذریعے شکست میں تبدیل کیا گیا؟ یہ وہ واقعہ ہے جس نے پوری قوم کے سامنے ثابت کر دیا کہ جب یہ لوگ ووٹ سے ہار جاتے ہیں تو پھر طاقت اور دہشت سے جیت چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی عوام چوہدری یاسین کو جانتی ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے نظریاتی اور دلیر رہنما ہیں۔ پچھلے الیکشن بھی انہوں نے کشمیر میں دو نشستوں سے میرے کہنے پر الیکشن تھا۔ اس وقت وفاق میں عمران خان کی حکومت تھی اور پورا ریاستی نظام ہمارے خلاف استعمال ہو رہا تھا، ہر طرف دبا تھا، رکاوٹیں تھیں۔ اس کے باوجود چوہدری یاسین نے ہمت نہیں ہاری۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس مشکل دور میں بھی چوہدری یاسین نے دونوں سیٹیں نکالیں۔ جب انہوں نے عوام کا مینڈیٹ حاصل کیا تو گولیاں چلائی گئیں۔ ان کے بیٹوں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ انہیں اور ان کے خاندان کو ہر طرح سے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن چوہدری یاسین ڈٹے رہے اور انہوں نے دونوں سیٹیں جیت کر یہ ثابت کیا کہ عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر وہی چوہدری یاسین اس الیکشن میں بھی دونوں سیٹوں پر لڑ رہے ہیں۔ ایک آبائی سیٹ اور دوسری شہر والی سیٹ۔ یہ شہر والی سیٹ اپنی اہمیت کے اعتبار سے بہت خاص ہے۔ یہ وہ سیٹ ہے جسے قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور بعد کسی نے نہیں جیتا تھا۔ پچھلے الیکشن میں چوہدری یاسین نے کم تعداد سے سہی لیکن تاریخی طور پر اس سیٹ کو جیت کر پیپلز پارٹی کا پرچم وہاں لہرا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی فرق ہے پیپلز پارٹی کے کارکن کسی کے دبا میں نہیں آتے، ہم جیلوں سے نہیں ڈرتے، ہم قربانیاں دے کر بھی اپنا مینڈیٹ بچاتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ کی جدو جہد اور قربانیوں پر ہے تو یہ کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ ہم یا ہمارے جیالے ہار مان جائیں گے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک جانب پاکستان تحریک انصاف عوام کو انتخابی عمل کے بائیکاٹ کی دعوت دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بعض عناصر احتجاج کی آڑ میں سیاسی ماحول کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود چوہدری محمد یاسین صاحب نے کوٹلی شہر کی نشست پر نمایاں کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کیا کہ عوام دبا اور منفی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پر اعتماد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ 30 پولنگ اسٹیشنز پر منظم انداز میں قبضہ کر کے جعلی ووٹوں کے ذریعے چوہدری یاسین کی واضح برتری کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن 30 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج سامنے لائے گئے ہیں وہاں مجموعی ٹرن آٹ 40 سے 50 فیصد کے درمیان ریکارڈ کیا گیا، تاہم جاری کردہ فارم 45 میں 90 فیصد تک ٹرن آٹ ظاہر کیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پورے آزاد کشمیر میں ووٹر ٹرن آٹ کم رہے اور صرف انہی 30 پولنگ اسٹیشنز پر غیر معمولی سطح پر ووٹنگ ہوئی ہو؟ یہ منطقی اور انتخابی حقائق کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارے پاس ویڈیو شواہد موجود ہیں جو ان 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضے اور غیر قانونی مداخلت کو واضح طور پر ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایسے متنازعہ اور دھاندلی زدہ نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان 30 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کا فوری شفاف آڈٹ کیا جائے اور ویڈیو شواہد کی روشنی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوام کے مینڈیٹ پر کسی قسم کی ڈکیتی قبول نہیں کی جائے گی۔ اگر جمہوری عمل میں مداخلت کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوگی جو انتخابی عمل کی ساکھ کو مجروح کر رہی ہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس انتخابی دھاندلی میں ملوث نہیں ہے تو وہ فوری طور پر غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا آغاز کرے اور متاثرہ علاقوں میں ری پولنگ کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن اور کوٹلی میں عوام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، اور چوہدری اخلاق صاحب کے ساتھ جو زیادتی کی گئی، وہ تمام حقائق ہمارے سامنے ہیں۔ ان علاقوں میں انتظامی مداخلت، پولنگ اسٹیشنز پر قبضے اور نتائج میں ردوبدل کی کوششیں جمہوری عمل پر سوالیہ نشان ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ بھمبر میں بھی جو ووٹ عوام سے چوری کیے گئے ہیں انہیں واپس لایا جائے۔ عوام نے جس امیدوار کو مینڈیٹ دیا ہے اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اگر الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری نبھانا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ تمام شواہد کی روشنی میں فوری اقدامات کرے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دھاندلی زدہ نتائج کو قبول نہیں کرے گی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے عوام کے اصل مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے سیاسی اور جمہوری نتائج کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ اگر سیاسی میدان میں کھلے مقابلے کے بعد شکست ہو تو وہ اسے جمہوری روایت کے تحت قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن جہاں منظم دھاندلی کے ذریعے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا جائے، وہاں پیپلز پارٹی خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ اور یہ الیکشن یقینا اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ یہ عوام کے بنیادی حق کا اظہار ہیں۔ تاہم ووٹ سے بھی زیادہ اہم انسانی جان ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیاسی کشیدگی کے باعث لوگ شہید ہو رہے ہیں اور ایک سنگین بحران جنم لے رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس واضح اور عملی حل موجود ہے۔ ہمارا حل عوام کی رائے کا احترام، شفاف انتخابی عمل اور سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت پر مبنی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق دیا جائے، ادارے غیر جانبدار رہیں اور کسی کی جان کو مزید خطرے میں نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔
ہم قربانیاں دے کر بھی جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کا دفاع کریں گے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ سیاسی جدوجہد خون خرابے میں تبدیل نہ ہو۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کے سامنے واضح موقف رکھا ہے کہ اگر احتجاج کرنے والے فریق ریاست اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تجویز تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں تو اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے “سچ اور مفاہمت کا کمیشن” قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن غیر جانبدارانہ بنیادوں پر حالیہ واقعات، دھاندلی کے الزامات اور عوامی شکایات کی مکمل چھان بین کرے۔ کمیشن اپنی تحقیقات کے بعد حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرے تاکہ عوام کے سامنے سچ سامنے آ سکے اور آئندہ کے لیے ایسے بحرانوں کا سدباب ہو سکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ جب تک کمیشن اپنی رپورٹ مکمل نہیں کر لیتا، تمام احتجاجی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی جائیں تاکہ کشمیر میں قیامِ امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاجی قیادت یہ تجویز قبول کر لیتی ہے تو ریاست بھی اس تناظر میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی روک سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کا مقصد تصادم نہیں بلکہ مفاہمت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کے مسائل بات چیت اور آئینی طریقے سے حل ہوں، نہ کہ گلیوں اور سڑکوں پر۔ سچ اور مفاہمت کا کمیشن ہی وہ راستہ ہے جو سیاسی بحران کو ختم کر کے عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں آج کشمیر کے ان عام شہریوں کی نمائندگی کر رہا ہوں جن کا نہ حکومت سے کوئی تعلق ہے اور نہ کسی احتجاجی تحریک سے۔ ان کی واحد خواہش یہ ہے کہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں، اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی اولین ترجیح امن اور استحکام ہے۔
وہ چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر کشمیر کا وہ مثبت اور قابلِ فخر چہرہ پیش کیا جائے جو تعلیم، ترقی اور رواداری کی علامت ہو۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر پاکستان پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ “سچ اور مفاہمت کا کمیشن” فوری طور پر تشکیل دیا جائے۔ یہ کمیشن غیر جانبدارانہ بنیادوں پر حالیہ واقعات اور عوامی شکایات کی تحقیقات کرے اور اپنی شفاف رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر کوئی فریق اس تجویز سے اختلاف رکھتا ہے تو وہ اس کی معقول وجوہات عوام کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو عناصر سچ سے گریز کرتے ہیں وہی مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اگر کسی کا موقف حق اور انصاف پر مبنی ہے تو پھر سچ اور مفاہمت کے عمل سے انکار کی کوئی منطقی وجہ موجود نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی تصادم کی نہیں بلکہ مکالمے اور آئینی حل کی حامی ہے۔ ہمارا مقصد کشمیر کے عوام کو سیاسی کشیدگی سے نجات دلانا اور خطے میں پائیدار امن و ترقی کی بنیاد رکھنا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2 اگست کو عوام نے تیر پر مہر لگا کر ایک واضح پیغام دینا ہے۔ یہ پیغام راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر متعلقہ حلقوں تک پہنچنا چاہیے کہ آزاد کشمیر کا کا فیصلہ صرف اور صرف آزاد کشمیر کی عوام کر سکتی ہے یہ ووٹ انکا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پائیدار امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کا بھی فوری حل نکالا جائے۔ اس وقت عوام انٹرنیٹ کی بندش، مواصلاتی مشکلات اور کھانے پینے کی اشیا کی قلت جیسے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان مسائل کے تسلسل سے نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ خطے میں بے چینی بھی بڑھ رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ امن، شفافیت اور عوامی فلاح کے ایجنڈے کے لیے ہے۔ 2 اگست کو دیا جانے والا مینڈیٹ اس بات کا اعلان ہوگا کہ کشمیر کے عوام دھاندلی، محرومی اور ناانصافی کو مسترد کرتے ہیں اور وہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں ان کی آواز سنی جائے اور ان کے مسائل حل کیے جائیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کا واضح منشور عوام کو تین بنیادی حقوق کی فراہمی ہے: حقِ ملکیت، حقِ حاکمیت اور حقِ روزگار۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقوق نہ تو بندوق کے زور پر حاصل کیے جائیں گے اور نہ ہی شہروں اور سڑکوں کو بند کر کے۔ پیپلز پارٹی کا طریقہ کار جمہوری ہے۔ ہم عوام کا مینڈیٹ حاصل کر کے، اسمبلی کے اندر رہ کر یہ حقوق دلائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 1947 سے لے کر اب تک کشمیر کی عوام پرانے نظام اور پرانی تنخواہوں پر نہیں چل سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر میں جامع اصلاحات لائی جائیں تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں اور حکومت کو مالی خودمختاری حاصل ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ “حقِ حاکمیت” کے نام پر ہمیں CCI اور NFC جیسے آئینی فورمز پر کشمیر کی آواز مثر انداز میں اٹھانا ہوگی۔ کشمیر کے مالی و انتظامی معاملات میں کشمیریوں کی نمائندگی اور حصہ داری یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کشمیر کی عوام کا حق ہے کہ اسمبلی میں وہ خود موجود ہر کر اپنے مسائل خود بیان کریں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ کشمیر کے مستقبل اور کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کون کرے گا، یہ اختیار صرف اور صرف کشمیر کے عوام کے پاس ہے۔
پیپلز پارٹی اسی عوامی اختیار کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد، سندھ، پنجاب، کے پی کے یا بلوچستان نہیں کر سکتا کہ کشمیر کی عوام کو کیا دیا جائے، یہ فیصلہ کشمیر خود کرے گا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ دریا جو ہمارے سامنے بہہ رہا ہے، یہ بلند و بالا پہاڑ اور یہ سرزمین جس پر آپ اس وقت کھڑے ہیں، ان سب کے حقیقی مالک کشمیر کے عوام ہیں اور کوئی دوسرا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سرزمین اور اس کے قدرتی وسائل سے اگر کوئی فائدہ اٹھائے گا تو سب سے پہلا حق کشمیر کی عوام کا ہے۔ پہاڑ کی بلند ترین چوٹی سے لے کر کشمیر کے دریاں تک، ہر قدرتی وسیلے پر اختیار صرف اور صرف کشمیر کے عوام کا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ کشمیر کے وسائل پر کشمیریوں کی ملکیت تسلیم کی جائے۔ ہائیڈرو پاور، معدنیات اور سیاحت سمیت ہر شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی سب سے پہلے کشمیر کے عوام کی فلاح، روزگار اور ترقی پر خرچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو یہ حق نہیں دیں گے کہ وہ کشمیر کے وسائل پر قبضہ کرے اور کشمیر کے عوام کو اس سے محروم رکھے۔ حقِ ملکیت کا مطلب یہی ہے کہ کشمیر کی تقدیر کے فیصلے کشمیر کے عوام خود کریں۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نون لیگ کا معاشی فلسفہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ “امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر” کیا جائے۔ ان کی پالیسیاں مراعات یافتہ طبقے کے فائدے کے لیے بنتی ہیں، جبکہ عام آدمی بوجھ اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی کا معاشی فلسفہ عوام دوست ہے۔ پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح پسماندہ طبقے اور پسماندہ علاقے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ غریب کو امیر بنایا جائے، مزدور کو بااختیار اور خوشحال بنایا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی معاشی ترقی کو اس وقت تک مکمل نہیں مانتی جب تک اس ملک کے پسماندہ طبقات کو انکے حقوق نہ دیئے جائیں۔ ہم سبسڈی، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے نچلے طبقے کو اوپر لانا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں حقیقی معاشی انصاف قائم ہو۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کیا آپ کشمیر کو پنجاب بنانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کشمیر کو سندھ بنانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ میں کشمیر کو کشمیر بنانا چاہتا ہوں۔ کشمیر کی شناخت، اس کی ثقافت اور اس کے مسائل منفرد ہیں۔ اس لیے کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیر کے عوام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کل ہونے والے جلسے کے پنڈال میں پنڈی یا اسلام آباد سے کوئی ہو نہ ہو لیکن کشمیر کے لوگ موجود ہونگے۔ اور یہی ہونا بھی چاہیے۔ اگر کشمیر کا فیصلہ کشمیر نے کرنا ہے تو کشمیر کے جلسوں میں بھی صرف مظفرآباد، میرپور اور دیگر اضلاع کے عوام کی آواز گونجے گی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی خودمختاری، وقار اور حقوق پر مبنی کشمیر کی حامی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر اپنے وسائل، اپنے فیصلوں اور اپنی ترقی کا مالک خود بنے۔ آخر میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھا دیا جائے کہ سیاسی جدوجہد میں بائیکاٹ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ سے نہ آزادی ملتی ہے اور نہ عوام کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ بائیکاٹ کا مطلب دراصل اسلام آباد کو دھاندلی کی کھلی دعوت دینا ہے۔ جب آپ میدان خالی چھوڑ دیں گے تو فیصلے دوسرے کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دھاندلی سے کشمیر چلانے کا یہ رواج ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے تو اس کا حل الیکشن میں بھرپور شرکت ہے، بائیکاٹ نہیں۔ اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام کو کرنا چاہیے تو گھروں میں نہ بیٹھیں۔ نکلیں اور تیر پر مہر لگائیں۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو کامیاب کرائیں تاکہ پیپلز پارٹی اسمبلی میں وہ دو تہائی اکثریت حاصل کر سکے جس کے ذریعے ہم اپنے منشور میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کر سکیں۔ حقِ ملکیت، حقِ حاکمیت اور حقِ روزگار کا وعدہ صرف ووٹ سے ہی پورا ہوگا۔



















































