لاہور (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری عبداللہ طاہر کو لاہور میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیااور مسلح ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے ،
مقتول گلبرگ میں نجی کلینک پرروٹین چیک اپ کے لئے آئے تھے،فائرنگ کی زد میں آکر ڈاکٹر بھی زخمی ہوا جسے طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ایل ڈی اے سپورٹس کمپلیکس کے سامنے واقع ہومیوپیتھک کلینک میں پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دو مسلح ملزمان کلینک میں داخل ہوئے اور پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر پر فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہو گئے۔اہلخانہ اور خاندانی ذرائع نے پی ٹی آئی رہنما کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری عبداللہ طاہر لاہور میں واقع اپنی رہائش گاہ گلبرگ سے روٹین چیک اپ اور فزیو تھراپی کے لئے کلینک گئے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔فائرنگ کے دوران کلینک کے ڈاکٹر ریاض خان بھی گولی لگنے سے زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ریاض خان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران بھی موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس پی ماڈل ٹائون کو ملزمان کی فوری ٹریسنگ اور گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کر دی ۔انہوں نے کہا کہ سیف سٹیز کیمروں اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا جا رہا ہے جبکہ فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔واضح رہے کہ چوہدری عبداللہ طاہر کا شمار اوکاڑہ کی اہم سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا، انہوں نے سال 2018ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا۔



















































