اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ،عمر قید کی سزا پانے والا ملزم41 سال بعد باعزت بری

datetime 17  جون‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے 41سال پرانے دوہرے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم تاج دین کو باعزت بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے ملزم تاج دین کی اپیل منظور کرتے ہوئے 14صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر بھی قرار دیا جا رہا ہے۔جسٹس امجد رفیق نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اور میڈیکل شواہد بھی مثر انداز میں پیش نہیں کیے جا سکے۔فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف 28اکتوبر 1985ء کو ضلع رحیم یار خان میں دو افراد، ریاض الدین اور اختر علی کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2017ء میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف 2018ء میں لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔جسٹس آمد رفیق نے نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اور میڈیکل شواہد بھی مثر انداز میں پیش نہیں کیے جا سکے، میڈیکل افسر کی عدالت میں عدم پیشی کو بھی استغاثہ کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات پائے گئے جبکہ ان کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور پیش کردہ کہانی بھی مشکوک ثابت ہوئی۔

عدالت نے پولیس تفتیش اور شواہد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قرار دیا کہ پراسیکیوشن کا پورا مقدمہ شکوک و شبہات کا شکار ہے۔عدالت عالیہ نے واضح کیا کہ محض شک کی بنیاد پر کسی ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی اور فائد شک ملزم کا قانونی حق ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سزا برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اور ناقابل تردید شواہد کا ہونا ضروری ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا ختم کرتے ہوئے ملزم تاج دین کی فوری رہائی کا حکم دے دیا اور جیل حکام کو ہدایت کی کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…