اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

کیوں مجھے ملک سے نکالا گیا، کیوں جیلوں میں ڈالا گیا؟ قصور آپ کا بھی ہے، نواز شریف کا عوام سے شکوہ

datetime 3  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچے،

جہاں انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی ترقی، سیاحت کے فروغ اور جاری منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے اہم اعلانات کیے۔

اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں پر وہ خود نظر رکھیں گے تاکہ ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقے میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور اگر اس شعبے کو بہتر انداز میں ترقی دی جائے تو مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اہم حصہ ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں بنیادی ڈھانچے کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ انہوں نے خراب سڑکوں اور ادھورے منصوبوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خطے کو ترقیاتی عمل میں مناسب اہمیت کیوں نہیں دی گئی۔

نواز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ چاہے عوام انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں، وہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے بات کریں گے۔ انہوں نے طلبہ کے لیے مزید اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا سیاسی انداز مخالفین پر تنقید کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے حمایت حاصل کرنا ہے۔ ان کے بقول، مسلم لیگ (ن) ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمت کی بنیاد پر سیاست کرتی رہی ہے۔

لوڈشیڈنگ کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں طویل دورانیے کی بجلی بندش ناقابل قبول ہے اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر خطے میں ان کی جماعت کی حکومت قائم ہوئی تو وہ باقاعدگی سے گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور منصوبوں کی پیش رفت کا خود جائزہ لیں گے۔

این ایف سی ایوارڈ میں حصے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے یاد دلایا کہ 2017 میں اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاہم بعد میں سیاسی تبدیلیوں کے باعث اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت سفارشات نافذ کر دی جاتیں تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔

انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی بار اقتدار سے الگ کیا گیا، جیل بھیج دیا گیا اور ملک سے باہر رہنا پڑا، تاہم وہ ماضی کے تنازعات کو دہرانے کے بجائے مسائل کے حل پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ فریقین کو ساتھ بٹھا کر معاملات کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔

خطاب کے دوران نواز شریف نے گلگت، اسکردو اور دیگر علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے ان کی حکومت نے زمین کی خریداری کی مد میں خطیر رقم فراہم کی تھی، لیکن منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا، حالانکہ اس سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک کو فائدہ پہنچتا۔

دورے کے دوران نواز شریف کے ہمراہ وفاقی وزرا اور پارٹی کی دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ گلگت پہنچنے پر پارٹی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا جبکہ انہوں نے مقامی قیادت اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…