اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

علیمہ خان وراثت سنبھالنا چاہتی ہیں لیکن ہاتھ کچھ نہیں آئیگا’ شیر افضل مروت

datetime 1  جون‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی کی موجودہ حکمت عملی،

تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اندرونی اختلافات، غیر موثر تنظیمی فیصلوں اور کمزور سیاسی حکمتِ عملی کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ایک انٹر ویو میں شیر افضل مروت نے دعوی کیا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل محدود ہو گیا ہے جس کے باعث سیاسی جدوجہد اور احتجاجی سیاست متاثر ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض غیر منتخب افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے جماعتی معاملات پر منفی اثر ڈالا۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران موثر سیاسی مہم چلانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی قیادت کو خیبرپختونخوا ہ سمیت دیگر علاقوں سے کارکنوں کو متحرک کر کے ایک بھرپور انتخابی مہم چلانی چاہیے تھی۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات اور بعض رہنمائوں کو درپیش رکاوٹوں کو بھی پارٹی کی کمزور تنظیمی صورتحال کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کو زمینی سطح پر زیادہ مثر سیاسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا ہ کے براہ راست زمینی رابطے ہونے کے باوجود قیادت کے نہ پہنچنے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔انہوںنے کہا کہ تین مرتبہ عمران خان کی رہائی کا موقع ملا لیکن اسے ضائع کیا گیا ، عمران خان کی بہن علیمہ خان وراثت سنبھالنے کے چکر میں ہیں لیکن پارٹی رہے گی بھی تو ان کے ہاتھ میں کیا آئے گا۔شیر افضل مروت نے یہ بھی دعوی کیا کہ انہوں نے مختلف مواقع پر پارٹی کو منظم احتجاجی ڈھانچہ دینے کی کوشش کی تاہم ان کی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کو متحد، متحرک اور منظم کرنا مقصود ہو تو تنظیمی سطح پر فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔سابق پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت کی موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت کو فروغ دیں تاکہ پارٹی کو دوبارہ موثر سیاسی قوت بنایا جا سکے۔شیر افضل مروت نے کارکنوں کے نام اپنی اپیل میں کہا کہ اگر وہ واقعی جماعت کو متحد، متحرک، منظم اور قید رہنمائوں کی رہائی کے لیے موثر عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف تین ماہ کے لیے جماعت کی تنظیمی کمان دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…