اسلام آباد/نیویارک(این این آئی)پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیش کش کی ہے جس کے باعث اگلا دور چند روز میں متوقع ہے ۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاکستان نے سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، فریق معاہدے کیلئے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔ایک اور نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد بھی پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ امریکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ امریکی عہدے دار نے توقع ظاہر کی ہے کہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ روز ہمیں صحیح لوگوں کی کال آئی تھی کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، ایرانی بقیہ نکات پر بھی اتفاق کر لیں گے، مذاکرات کے دوران ایران کے ساتھ متعدد نکات پر اتفاق ہوا۔ادھرامریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق ثالثوں نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے کوششوں تیز کرتے ہوئے رابطے شروع کر دیئے ہیں، ایران امریکا مذاکرات کا اگلا دور چند روز میں پاکستان میں ہو سکتا ہے۔امریکی اخبار
نیو یارک ٹائمز کے مطابق بات چیت سے عندیہ ملتا ہے کہ امن معاہدے کی جانب اب بھی کوئی پیشرفت متوقع ہے، ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کے درمیان بالمشافہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا بھی امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ایک ثالث ملک کے سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ تہران اور واشنگٹن اصولی طور پر اس پر آمادہ ہو چکے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں اسی سطح کے وفود شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم مقام اور وقت کے تعین پر غور جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق اسلام آباد مذاکرات میں ایران نے یورینیم افزودگی کو 5 سال تک معطل کرنے کی پیش کش کی، امریکا نے تجویز مسترد کرتے ہوئے بیس سال کی معطلی پر اصرار کیا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہوگئے۔



















































