اسلام آباد سے موصول اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے حالیہ ملاقات کی اندرونی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کو بتایا کہ ملاقات کے دوران صدر نے واضح کیا کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے کی صلاحیت اور حکمت عملی وہ خود رکھتے ہیں اور اسے کامیاب بنانے کا طریقہ بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ وزارتوں اور اختیارات کے بجائے عوامی خدمت پر توجہ دیں کیونکہ جماعت کا اصل مقصد ملک کی بہتری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ بھی پارٹی کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ ذرائع کے مطابق صدر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ قید کے زمانے میں بھی انہوں نے کبھی ہڑتال کی اپیل نہیں کی اور ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پنجاب میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گروپ بندی ختم کر کے تنظیم کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کارکنوں کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے حلقے نواب شاہ سے عوامی خدمت کی بنیاد پر کامیاب ہوتے ہیں، اس لیے تمام رہنماؤں کو عوام سے رابطہ مضبوط بنانا چاہیے کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر سیاست بے معنی ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو ملک کو ایٹمی طاقت نہ بناتے تو آج حالات کہیں زیادہ خراب ہوتے۔ صدر کے مطابق صوبہ سندھ میں ہزاروں نہروں کی پختگی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت متعدد پلوں کی تعمیر ترقیاتی اقدامات کی مثالیں ہیں۔



















































