ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

ترکی بھی پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہش مند ہے، بلومبرگ کا دعویٰ

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)ترکی، سعودی عرب اور ایٹمی طاقت پاکستان کے درمیان ابھرتے ہوئے ایک نئے دفاعی تعاون کا حصہ بننے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دیگر خطوں میں بھی طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی آ سکتی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے جاری مشاورت خاصی آگے بڑھ چکی ہے اور کسی باضابطہ معاہدے کے امکانات مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ فریم ورک گزشتہ سال ستمبر میں طے پایا تھا، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ یہ اصول نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہت رکھتا ہے۔

ترکی چونکہ نیٹو میں امریکا کے بعد سب سے بڑی فوجی قوت رکھتا ہے، اس لیے وہ اس اتحاد کو اپنی علاقائی حکمتِ عملی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی کے مفادات جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں تیزی سے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ انقرہ اس مجوزہ اتحاد کو امریکا پر انحصار کم کرنے اور سلامتی کے ایک متبادل نظام کے طور پر دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو سے متعلق مؤقف پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ترک تھنک ٹینک ٹیپا وی سے منسلک دفاعی ماہر نہات علی اوزجان کے مطابق اس ممکنہ اتحاد میں ہر ملک کی اپنی اہم حیثیت ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب مالی وسائل فراہم کرتا ہے، پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور تربیت یافتہ افرادی قوت موجود ہے، جبکہ ترکی جنگی تجربے اور تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی خطے میں ترجیحات، خاص طور پر اسرائیل پر بڑھتی توجہ، نے دیگر ممالک کو نئے دفاعی بلاکس تشکیل دینے پر آمادہ کیا ہے۔

اگر ترکی باضابطہ طور پر اس اتحاد کا حصہ بن جاتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ ماضی میں سنی دنیا کی قیادت پر اختلافات رکھنے والے دونوں ممالک اب اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر دفاعی اور معاشی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ترکی اور سعودی عرب کے درمیان پہلی مرتبہ بحری امور پر مذاکرات بھی انقرہ میں منعقد ہوئے ہیں۔ترکی، سعودی عرب اور پاکستان تینوں ایران سے متعلق تحفظات رکھتے ہیں، تاہم براہِ راست تصادم کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ممالک شام میں مستحکم سنی قیادت اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ترکی اور پاکستان کے درمیان عسکری تعاون پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ ترکی پاکستان کے لیے جنگی بحری جہاز تیار کر رہا ہے، ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن مکمل کر چکا ہے اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی تعاون جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترکی چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان اس کے پانچویں نسل کے جنگی طیارے کے منصوبے میں بھی شامل ہوں۔یہ سہ ملکی دفاعی رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں چار روزہ فوجی کشیدگی کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بھی تناؤ برقرار ہے، جہاں اسلام آباد طالبان پر شدت پسند گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ ترکی اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود ان مذاکرات میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…