جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے امداد نہ لینے کا فیصلہ

datetime 9  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کیلیے بیرونی امداد نہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجرا کے دوران پریس کانفرنس میں وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو پاکستان اپنے مالی وسائل سے کرے گا، اس کیلیے بیرونی امداد نہیں لی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سیلاب سے فصلوں، گھروں اور انفرااسٹرکچر کو نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے بعد بحالی اور تعمیر نوکی ضروریات کا اندازہ لگایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ نقصانات کا حقیقی تخمینہ سیلاب اترنے کے بعد لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے تاثر کی تردید کی کہ تین سال قبل جنیوا میں6.4 ارب ڈالر کے وعدوں کیلئے قابل سرمایہ کاری منصوبے تیار کرنے میں پاکستان ناکام رہا۔

انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل میں وقت لگتا ہے، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی3.7 ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری دے چکی ہے۔کالا باغ ڈیم سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کوئی ڈیم تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی جائنٹ کواپریشن کمیٹی کا 14واں اجلاس26 ستمبر کو ہو گا جس میںقراقرم ہائی وے فیزٹو کی تعمیر کیلئے فنڈنگ کے معاہدہ دستخط متوقع ہیں،چین منصوبے کی لاگت کا 85 فیصد بطور قرض دے گا۔انہوں نے تصدیق کی کہ مین لائن ون منصوبہ کیلئے چین فنڈنگ سی پیک فریم ورک کا حصہ نہیں، تاہم دونوں ملکوں نے مین لائن ون منصوبے کیلئے کثیر جہتی فنڈنگ کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے، ایک منصوبے کیلئے چینی ایکزم بینک سے مزید قرضے لینا مناسب نہیں جو پہلے ہی ہر سال پرانے قرضے رول اوور کر رہا ہے۔تاہم چین ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے اس منصوبے کلئے قرض حاصل میں تعاون کرے گا۔انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مین لائن ون منصوبے میں تاخیر اور سکھر حیدرآباد موٹروے کو موخر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 9200 کے قریب مکانات تباہ،671 کلو میٹر سڑکیں سیلابی پانی میں بہہ گئیں،239 پل منہدم ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…