جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے 4 ججز کا ایک اور مشترکہ خط

datetime 8  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے 4 ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ایک اور مشترکہ خط لکھ دیا،خط میں پھر چیف جسٹس کی بنائی کمیٹی کا ہی ذکر ہے۔مشترکہ خط میں کہا گیا کہ نئے سپریم کورٹ رولز کا طریقہ کار قانونی نہیں، ہمارے خط کو فل کورٹ میٹنگ منٹس کا حصہ بنایا جائے، شریک نہیں ہوسکتے۔

ججز کے مشترکہ خط کے متن کے مطابق ہمیں فل کورٹ میٹنگ کا خط موصول ہوا، رولز منظوری کے لیے کبھی فل کورٹ کے سامنے نہیں رکھے گئے، فل کورٹ کے لیے ایک نکاتی ایجنڈا ہی رکھا گیا۔خط میں کہا گیا کہ ایجنڈے میں نئے رولز سے پیدا مشکلات کے خاتمے کا ذکر ہے، بنیادی اعتراض دور ہونے تک اس میٹنگ میں شرکت کا فائدہ نہیں۔ سرکولیشن سے رولز کی منظوری لی گئی، سرکولیشن روزمرہ کے عمومی معاملات کی حد تک ایک سہولت ہوتی ہے، رولز 9 اگست کو پہلے ہی نوٹیفائی ہو چکے۔مشترکہ خط کے متن کے مطابق اس موقع پر فل کورٹ بلانا ‘پزلنگ’ ہے، فل کورٹ میٹنگ منٹس کو پبلک بھی کیا جائے، ہماری رائے میں رولز غیرقانونیت کا شکار ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…