جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ملتان’ جلال پور پیروالا میں مقامی بند ٹوٹ گئے، درجنوں بستیاں زیر آب، شہر میں ایمرجنسی نافذ

datetime 8  ستمبر‬‮  2025 |

ملتان’جھنگ (این این آئی)پنجاب کے دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک ریکارڈ کیاگیا جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ تریمو ں پر بہاؤ 5 لاکھ 43 ہزار کیو سک ہے۔حکام کے مطابق دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث جلال پور پیروالا میں مقامی بند میں شگاف پڑگیا جس سے درجنوں بستیاں زیر آب آگئی ہیں، مکین گھروں کی چھت پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے، جلال پور پیروالا میں موضع شاہ رسول اور بیٹ واہی کے زمیندارا بند ٹوٹ گئے، بہادر پور کے علاقے میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔

شجاع آباد اور جلال پور پیر والہ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جلالپور پیروالا شہرکو خالی کرنیکا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ انتظامیہ اب شہری بند کو بچانے میں مصروف ہے کیونکہ دریائے چناب کا پانی شہر کے قریب بنائے جانے والے بند کو کسی بھی وقت توڑ سکتا ہے،لوگوں کوریسکیو کرنے کے لیے 5 ڈرون اور مزید 50 کشتیاں منگوالیں۔اکبر فلڈ بند پر بھی پانی کی سطح آہستہ آہستہ بڑھنے لگی جہاں پانی کا لیول 412 اعشاریہ 3فٹ پر پہنچ گیا۔جھنگ میں دریائے چناب میں آنیوالے دوسرے ریلے سے300 سے زائد دیہات سیلاب کی زد میں ہیں، 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ مظفر گڑھ کے علاقے عظمت پو رمیں بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آگئیں، اسسٹنٹ کمشنر کیمطابق 7 ہزار سے زیادہ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔

ادھر بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب ناردرن بائی پاس کے قریب پہنچ کر بستیوں میں داخل ہوگیا ہے۔دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 3لاکھ 19 ہزار کیوسک ریکارڈ کیاگیا جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر اونچے اور ہیڈ اسلام پردرمیانے درجے کے سیلاب ہیں۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر بہاؤ ایک لا کھ 39 ہزار جبکہ ہیڈ سدھنائی پر بہاؤ بڑھ کر ایک لاکھ 23 ہزار کیوسک ہو گیا۔پنجاب کے بعد سیلابی ریلے سندھ پہنچنا شروع ہوگئے، گڈو بیراج پر پانی کی آمد میں اضافے سے درمیانے درجے کا سیلاب ہیجہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔راجن پور دریائے سندھ میں سیلاب کے باعث کچے کے علاقوں میں پانی کا بہاؤ تیز ہورہا ہے، متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…