جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

”دی سمپسنز“ کی پاک بھارت جنگ سے متعلق بھی پیشگوئی

datetime 2  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز رپورٹ) مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے حسبِ روایت ایک بار پھر بغیر کسی ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے خطے میں تناؤ بڑھانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

بھارت نے اس افسوسناک واقعے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کو جواز بنا کر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا اور اس کے بعد کئی اشتعال انگیز سفارتی اقدامات کیے، جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی شامل ہے۔

ان اقدامات کے باوجود بھارتی جنگی جنون میں کمی نہیں آئی بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلاجواز گولہ باری میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا مقصد پاکستان کو اشتعال دلا کر خطے کے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس تمام تر صورتحال کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی ہے، جسے مشہور اینی میٹڈ سیریز “دی سمپسنز” کی پیش گوئی قرار دیا جا رہا ہے۔ مذکورہ کلپ 2000 میں نشر ہونے والے سیزن 11 کی قسط “بارٹ ٹو دی فیوچر” سے لیا گیا ہے، جس میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر ایٹمی حملے کی بات طنزیہ انداز میں کی گئی ہے۔

کلپ میں کردار کرسٹی دی کلاؤن ایک مذاق کرتے ہوئے کہتا ہے:
“پاکستان اور پین کیک میں کیا فرق ہے؟”
اور خود ہی جواب دیتا ہے:
“میں نے کبھی ایسا پین کیک نہیں دیکھا جس پر بھارت نے ایٹم بم گرایا ہو!”
پھر بے حسی سے کہتا ہے: “اوہ! کیا میں نے یہ بہت جلدی کہہ دیا؟”

یہ ویڈیو کئی صارفین کے نزدیک بھارت کے جنگی عزائم پر طنزیہ تبصرہ ہے، اور بعض اسے “پیش گوئی” کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، “دی سمپسنز کی پیش گوئیاں ہمیشہ سچ نکلتی ہیں!” جبکہ ایک اور صارف نے امید ظاہر کی کہ “یہ سب محض مزاح ہی ہو۔”

ماہرین کے مطابق، ایسے وقت میں اس کلپ کا سامنے آنا کسی اتفاق سے کم نہیں بلکہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو بھارت میں پروان چڑھ رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، مگر بھارت کی اشتعال انگیز پالیسیاں، جارحانہ سفارت کاری اور میڈیا کے ذریعے ایسے پیغامات کا پھیلاؤ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جو کسی بھی وقت خطے کو خوفناک تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…