جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

آہنی شکن PL-15 میزائلوں سے لیس جدید لڑاکا طیارے سوات اور سکردو ایئرپورٹ پر پہنچ گئے

datetime 29  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاک فضائیہ نے بھارت کی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دینے کے لیے اپنے جدید لڑاکا طیارے سوات اور سکردو کے ہوائی اڈوں پر تعینات کر دیے ہیں۔ یہ طیارے PL-15 طویل فاصلے تک مار کرنے والے اہنی شکن میزائلوں سے لیس ہیں، جو پاکستان کی فضائی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی فضائی حدود کے تحفظ کی گواہی دیتا ہے بلکہ قومی خودمختاری اور خطے کی سالمیت کے دفاع کے حوالے سے پاک فضائیہ کے غیر متزلزل عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ پاک فضائیہ اب ایک ایسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہمہ جہت جنگی صلاحیتوں کی حامل ہے۔

جے-10 سی اور جے ایف-17 بلاک تھری جیسے جدید ترین طیاروں کی فضائی بیڑے میں شمولیت، جنہیں PL-15 بی وی آر میزائلوں سے مسلح کیا گیا ہے، نے پاکستان کے فضائی دفاع کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ان جدید طیاروں کی موجودگی دشمن کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی فضائی سرحدیں ناقابلِ عبور ہیں۔

سیدو سے لے کر پسنی تک، فضائیہ کی چوکسی ہر وقت قائم ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل تیاری رکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاک فضائیہ نے قیادت کے وژن کے تحت جدید ٹیکنالوجی کو تیز رفتاری سے اپنانے کا عمل جاری رکھا ہے۔

اس انقلابی پیش رفت میں ایڈوانس فضائی پلیٹ فارمز، ہائی ٹو میڈیم آلٹیٹیوڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز (HIMADS)، بغیر پائلٹ لڑاکا طیارے (UCAVs)، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام شامل ہیں۔ ساتھ ہی خلا، سائبر سیکیورٹی اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کو بھی مؤثر طریقے سے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

پاک فضائیہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ قوم کی فضائی سرحدوں کی حفاظت، دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب اور خطے میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ جذبۂ قربانی، ٹیکنالوجی میں جدت اور عملی عزم کے ساتھ، پاک فضائیہ ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے مستعد ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…