اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

آہنی شکن PL-15 میزائلوں سے لیس جدید لڑاکا طیارے سوات اور سکردو ایئرپورٹ پر پہنچ گئے

datetime 29  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاک فضائیہ نے بھارت کی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دینے کے لیے اپنے جدید لڑاکا طیارے سوات اور سکردو کے ہوائی اڈوں پر تعینات کر دیے ہیں۔ یہ طیارے PL-15 طویل فاصلے تک مار کرنے والے اہنی شکن میزائلوں سے لیس ہیں، جو پاکستان کی فضائی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی فضائی حدود کے تحفظ کی گواہی دیتا ہے بلکہ قومی خودمختاری اور خطے کی سالمیت کے دفاع کے حوالے سے پاک فضائیہ کے غیر متزلزل عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ پاک فضائیہ اب ایک ایسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہمہ جہت جنگی صلاحیتوں کی حامل ہے۔

جے-10 سی اور جے ایف-17 بلاک تھری جیسے جدید ترین طیاروں کی فضائی بیڑے میں شمولیت، جنہیں PL-15 بی وی آر میزائلوں سے مسلح کیا گیا ہے، نے پاکستان کے فضائی دفاع کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ان جدید طیاروں کی موجودگی دشمن کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی فضائی سرحدیں ناقابلِ عبور ہیں۔

سیدو سے لے کر پسنی تک، فضائیہ کی چوکسی ہر وقت قائم ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل تیاری رکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاک فضائیہ نے قیادت کے وژن کے تحت جدید ٹیکنالوجی کو تیز رفتاری سے اپنانے کا عمل جاری رکھا ہے۔

اس انقلابی پیش رفت میں ایڈوانس فضائی پلیٹ فارمز، ہائی ٹو میڈیم آلٹیٹیوڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز (HIMADS)، بغیر پائلٹ لڑاکا طیارے (UCAVs)، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام شامل ہیں۔ ساتھ ہی خلا، سائبر سیکیورٹی اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کو بھی مؤثر طریقے سے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

پاک فضائیہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ قوم کی فضائی سرحدوں کی حفاظت، دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب اور خطے میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ جذبۂ قربانی، ٹیکنالوجی میں جدت اور عملی عزم کے ساتھ، پاک فضائیہ ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے مستعد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…