اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

ارشد چائے والا پاکستانی ہے یا نہیں؟ ثابت کرنے کیلئے عدالت سے مہلت مانگ لی

datetime 18  اپریل‬‮  2025 |

راولپنڈی (این این آئی)ارشد چائے والا کی شناختی دستاویزات بلاک ہونے کے خلاف پٹیشن پر سماعت کے دور ان عدالت نے مہلت دے دی۔راولپنڈی ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے ارشد خان المعروف ارشد چائے والا کی جانب سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیے جانے کے خلاف دائر پٹیشن پر سماعت کی۔پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کے شناختی دستاویزات بغیر کسی معقول وجہ کے بلاک کیے گئے ہیں اور نادرا کی جانب سے 1978 سے قبل کے رہائشی شواہد طلب کیے جا رہے ہیں، جو فراہم کرنا ممکن نہیں۔

سماعت کے دوران نادرا اور پاسپورٹ آفس حکام نے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی، جس کے مطابق ارشد خان کی دستاویزات مصدقہ انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹ کی بنیاد پر بلاک کی گئیں ہیں۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ارشد خان افغان شہری ہیں، اور حکومتی پالیسی کے تحت افغان باشندوں کو واپس ان کے ملک بھجوایا جا رہا ہے۔ارشد خان کے وکیل نے عدالت سے جواب جمع کروانے کے لیے مہلت کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ ارشد خان کو اسلام آباد کے ایک چائے کے ڈھابے پر کام کے دوران اپنی نیلی آنکھوں کی وجہ سے شہرت ملی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے خوب مشہور ہوگئے اور اب برطانیہ میں ہوٹل کھول چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…